صائمہ اشفاق عباسی — ایک باہنر اسلامی خطاطہ کا فکری و روحانی سفر
پاکستان کی اسلامی خطاطی کی دنیا میں جہاں مرد حضرات نے نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں، وہاں خواتین بھی اب پیچھے نہیں۔ انہی میں ایک باوقار اور باصلاحیت نام ہے: صائمہ اشفاق عباسی۔ ان کا فن محض خوشخطی نہیں بلکہ روح کی گہرائیوں سے نکلنے والا نور ہے جو ہر تحریر میں جھلکتا ہے۔
خاندانی پس منظر اور ابتدائی زندگی
صائمہ اشفاق عباسی کا تعلق ایک دینی، علمی اور روحانی گھرانے سے ہے۔ ان کی تربیت قرآن و سنت کے سائے میں ہوئی، جس نے ان کے مزاج میں وقار، بردباری اور فنونِ لطیفہ کے لیے حساسیت پیدا کی۔ بچپن ہی سے قلم و قرطاس سے شغف تھا، جو وقت کے ساتھ ایک مہارت میں بدل گیا۔
تعلیم اور فنی تربیت
صائمہ نے ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کی، اور بعد ازاں فنِ خطاطی میں باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ انہوں نے عربی اور اردو دونوں زبانوں میں خطاطی کے مختلف اسلوب جیسے نستعلیق، ثلث، کوفی، رقع، دیوانی، اور نستعلیق معلق میں مہارت حاصل کی۔ انہوں نے کئی بین الاقوامی آن لائن کورسز کے ذریعے جدید فنی انداز بھی سیکھے، تاکہ روایتی اور جدید خطاطی کو یکجا کر سکیں۔
خطاطی کا آغاز اور سفر
صائمہ نے خطاطی کا آغاز ذاتی دلچسپی سے کیا لیکن وقت کے ساتھ یہ فن ان کا مشن بن گیا۔ ان کی پہلی تخلیقات قرآنی آیات، اسماء الحسنیٰ اور احادیث پر مشتمل تھیں۔ رفتہ رفتہ ان کے فن میں نفاست، ترتیب اور روحانیت مزید بڑھتی گئی۔ ان کا کمال یہ ہے کہ وہ ہر کلامِ الٰہی کو دل کی گہرائی سے لکھتی ہیں، جس کی جھلک ہر تحریر میں واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔
روحانی وابستگی
صائمہ اشفاق عباسی کے فن کا ایک نمایاں پہلو ان کی روحانی وابستگی ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ خطاطی محض ایک فن نہیں بلکہ اللہ کی یاد کا ذریعہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ کلامِ الٰہی یا رسول اللہ ﷺ کا نام لکھتی ہیں تو ان کے ہاتھ اللہ کے حکم سے خودبخود چلنے لگتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں، “یہ میرا نہیں، یہ عطا ہے۔”
میڈیا میں شمولیت اور پذیرائی
صائمہ اشفاق عباسی کے فن کو پاکستان کے مختلف اخبارات، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر سراہا گیا ہے۔ ان کے یوٹیوب انٹرویوز میں وہ نہ صرف اپنے فن کی تکنیکی باتیں کرتی ہیں بلکہ اس میں شامل روحانی پہلو بھی بیان کرتی ہیں۔ وہ اپنی بات میں عاجزی رکھتی ہیں اور اپنے فن کو محض اللہ کی عنایت سمجھتی ہیں۔
نمائشیں اور اعزازات
صائمہ نے کئی قومی و بین الاقوامی خطاطی نمائشوں میں حصہ لیا۔ ان کے فن پارے پاکستان کے مختلف شہروں میں منعقدہ ثقافتی میلوں اور اسلامی نمائشوں میں پیش کیے جا چکے ہیں۔ انہیں متعدد اداروں سے اعزازی شیلڈز، سرٹیفکیٹس اور میڈیا کوریج حاصل ہوئی۔
تدریس اور فنی خدمات
صائمہ عباسی نے نہ صرف خود فن سیکھا بلکہ دوسروں کو سکھانے کا عزم بھی اپنایا۔ وہ آن لائن کلاسز کے ذریعے اردو اور عربی خطاطی سکھا رہی ہیں، جن سے ملک اور بیرونِ ملک کے طلبہ و طالبات مستفید ہو رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ہر مسلمان کو کم از کم اتنا فن آنا چاہیے کہ وہ خود خوبصورتی سے قرآن لکھ سکے۔
مستقبل کے اہداف
صائمہ اشفاق عباسی کا خواب ہے کہ وہ پاکستان بھر میں اسلامی خطاطی کے ادارے قائم کریں۔ ان کی خواہش ہے کہ آنے والی نسلوں کو خطاطی کے ذریعے اسلامی ثقافت، صوفیانہ حسن، اور روحانی سکون منتقل کیا جائے۔ وہ چاہتی ہیں کہ پاکستان دنیا بھر میں اسلامی خطاطی کا مرکز بنے، اور خواتین کو اس شعبے میں نمائندگی حاصل ہو۔
اختتامی کلمات
صائمہ اشفاق عباسی کی زندگی، ان کا فن، ان کی سوچ اور ان کا اخلاص اس بات کا ثبوت ہے کہ جب نیت خالص ہو اور مقصد رب کی رضا ہو، تو راستے خود بننے لگتے ہیں۔ ان کا فن محض آرٹ نہیں، ایک پیغام ہے — اللہ کی محبت، قرآن کی عظمت، اور سنتِ نبوی ﷺ سے عشق کا پیغام۔
1 Comment(s)
Very comprehensive and detailed introduction of renowned calligraphist artist.writter has put his heart and soul in depicting the artist's work
Leave a Comment