پاکستان! یہ آخری پکار ہے
عدل، توبہ اور بیداری کی طرف
یہ تحریر کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں، کسی حکمران کی حمایت میں نہیں اور کسی ادارے سے دشمنی کے لیے نہیں لکھی جا رہی۔ یہ ایک پاکستانی کے دل سے نکلنے والی وہ پکار ہے جو اپنے ملک کو ٹوٹتا، بکھرتا اور اندر سے کمزور ہوتا دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتی۔
پاکستان ہمارا گھر ہے۔ یہ صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں۔ اس کے پیچھے لاکھوں انسانوں کی ہجرت، جدائیاں، آنسو، قربانیاں اور خون کی ایک طویل داستان ہے۔ ہمارے بزرگوں نے ایک ایسے مستقبل کا خواب دیکھا تھا جہاں مسلمان اپنی اجتماعی زندگی اپنے ایمان، اپنی تہذیب، اپنی اقدار اور اپنے اصولوں کے مطابق گزار سکیں۔
لیکن آج ہمیں اپنے آپ سے ایک بہت مشکل سوال پوچھنا ہوگا:
یہ سوال کسی ایک شخص سے نہیں ہے۔ یہ سوال صدر سے بھی ہے، وزیراعظم سے بھی، جج سے بھی، جرنیل سے بھی، سیاست دان سے بھی، وکیل سے بھی، پولیس افسر سے بھی، صحافی سے بھی، سرکاری ملازم سے بھی، تاجر سے بھی اور اس عام شہری سے بھی جو فٹ پاتھ پر بیٹھ کر اپنے بچوں کے لیے روٹی تلاش کر رہا ہے۔
کیونکہ ریاست صرف حکمرانوں سے نہیں بنتی۔ ریاست ہم سب سے بنتی ہے۔
یہ شکایت نہیں، ایک آخری پکار ہے
ایک شدید بیمار انسان کو جب ہسپتال پہنچایا جاتا ہے تو ڈاکٹر اس سے یہ نہیں کہتا کہ تم بہت خراب ہو، اب تمہارا کوئی علاج نہیں۔ ڈاکٹر پہلے بیماری پہچانتا ہے، پھر جان بچانے کی کوشش کرتا ہے، پھر جسم سے زہر نکالتا ہے، زخم صاف کرتا ہے، علاج جاری رکھتا ہے اور مریض کو دوبارہ زندگی کی طرف لے آتا ہے۔
آج ہمیں پاکستان کو بھی اسی نظر سے دیکھنا ہوگا۔
پاکستان ختم نہیں ہوا۔ لیکن پاکستان کو شدید علاج کی ضرورت ہے۔
ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ رشوت، سفارش، ناانصافی، قانون سے بالاتر طاقت، جھوٹ، سیاسی انتقام، ادارہ جاتی کمزوری، جرائم پر بے عملی، شہری حقوق کی پامالی، عدالتی تاخیر اور اجتماعی خاموشی معمول کی چیزیں نہیں ہیں۔
یہ وہ زخم ہیں جنہیں چھپانے سے پاکستان صحت مند نہیں ہوگا۔
پاکستان کے خواب سے آج کے پاکستان تک
1947 میں ایک نیا ملک وجود میں آیا۔ لوگوں نے اپنے گھر چھوڑے۔ خاندان بچھڑے۔ قافلے اجڑے۔ بے شمار انسان اپنی جانوں سے گئے۔ لوگوں نے یہ قربانی اس امید پر دی کہ آنے والی نسلیں ایک بہتر زندگی گزاریں گی۔
ہمیں اپنے بزرگوں سے ایک سوال پوچھنے کی ہمت پیدا کرنی ہوگی:
کیا وہ پوچھتے کہ ہمارے ملک میں قانون کس کے لیے ہے؟ کیا وہ پوچھتے کہ انصاف خریدنے کی چیز کیوں محسوس ہوتا ہے؟ کیا وہ پوچھتے کہ سرکاری دفتر میں جائز کام کے لیے سفارش کیوں درکار ہوتی ہے؟ کیا وہ پوچھتے کہ ایک کمزور شہری اپنے حق کے لیے طاقتور آدمی کیوں تلاش کرتا ہے؟
شاید سب سے بڑا سوال یہ ہوتا:
آئین پاکستان: ایک وعدہ، ایک امانت
پاکستان کا آئین صرف حکمرانوں کے اختیارات کی کتاب نہیں۔ یہ ریاست اور شہری کے درمیان ایک عہد بھی ہے۔
آئین کے Article 2A کے ذریعے Objectives Resolution کو آئینی حیثیت حاصل ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور ریاستی اختیار کو ایک امانت کے طور پر سمجھنے کا اصول موجود ہے۔ اسی آئینی نظام میں شہریوں کے بنیادی حقوق بھی بیان کیے گئے ہیں۔
Article 4 قانون کے مطابق سلوک کا اصول سامنے رکھتا ہے۔ Article 9 زندگی اور آزادی کے تحفظ سے متعلق ہے۔ Article 10A منصفانہ مقدمے اور due process کی ضمانت دیتا ہے۔ Article 14 انسانی عزت و وقار کا تحفظ کرتا ہے۔ Article 19 اظہارِ رائے اور آزادیٔ صحافت کے آئینی دائرے کو بیان کرتا ہے۔ Article 19A حقِ معلومات سے متعلق ہے۔ Article 25 قانون کے سامنے مساوات کا اصول دیتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ یہ الفاظ کتاب میں موجود ہیں یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ عام پاکستانی کی زندگی میں ان اصولوں کا کتنا حصہ حقیقت بن چکا ہے؟
ریاست کے دروازے پر قرآن کا پیغام
پاکستان نے اپنے اداروں، عدالتوں اور ریاستی تصور میں اسلامی اصولوں کا حوالہ صرف زبانی طور پر نہیں دیا۔ ہمارے لیے قرآن عدل، امانت، ذمہ داری اور انسانی حقوق کا بنیادی اخلاقی سرچشمہ ہے۔
اور عدل کے بارے میں قرآن کی آواز کسی ایک زمانے یا ایک قوم کے لیے نہیں۔ یہ انسانیت کے لیے اصول ہے۔
سورۃ ص، 38:26
یہ الفاظ حضرت داؤد علیہ السلام کے لیے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کا حصہ ہیں: لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو۔
غور کیجیے۔ اگر عدالت انصاف کا گھر ہے تو اس کے فیصلے میں حق ہونا چاہیے۔ اگر پولیس شہری کی حفاظت کے لیے ہے تو اس کے عمل میں حق ہونا چاہیے۔ اگر حکومت عوام کی خدمت کے لیے ہے تو اس کے فیصلوں میں حق ہونا چاہیے۔ اگر پارلیمنٹ قانون بناتی ہے تو قانون میں حق اور انصاف ہونا چاہیے۔
اور اگر ایک عام شہری بھی کسی دوسرے انسان کے ساتھ فیصلہ یا معاملہ کر رہا ہے تو اسے بھی حق سے نہیں ہٹنا چاہیے۔
سورۃ المائدہ، 5:8
یہ آیت ہمیں ایک ایسا امتحان دیتی ہے جس سے کوئی سیاسی جماعت، ادارہ، خاندان یا فرد بچ نہیں سکتا۔
اگر جواب ہاں ہے تو ہم عدل کی طرف جا رہے ہیں۔ اگر جواب نہیں ہے تو پھر ہم انصاف نہیں بلکہ اپنے مفاد کی حفاظت کر رہے ہیں۔
اپنے خلاف بھی انصاف
سورۃ النساء، 4:135
یہی وہ مقام ہے جہاں اصل کردار سامنے آتا ہے۔
اپنے مخالف کے خلاف انصاف کرنا آسان نہیں۔ اپنے دوست کے خلاف انصاف کرنا مشکل ہے۔ اپنے خاندان کے خلاف انصاف کرنا اور مشکل ہے۔ لیکن اپنے خلاف انصاف کرنا سب سے بڑا امتحان ہے۔
ایک قوم اس وقت اخلاقی طاقت حاصل کرتی ہے جب وہ اپنے فائدے کے لیے اصول نہیں بدلتی۔
امانت کس کی ہے؟
سورۃ النساء، 4:58
یہ آیت ریاست کے ہر صاحبِ اختیار کے لیے ایک آئینہ ہے۔
سرکاری عہدہ امانت ہے۔ پولیس کی وردی امانت ہے۔ جج کی کرسی امانت ہے۔ پارلیمنٹ کی نشست امانت ہے۔ فوجی کمان امانت ہے۔ سرکاری خزانہ امانت ہے۔ سرکاری فائل امانت ہے۔ عوام کا اعتماد امانت ہے۔
جب امانت کو ذاتی فائدے کا ذریعہ بنا دیا جائے تو ریاست کے جسم میں ایک نیا زہر داخل ہوجاتا ہے۔
رشوت: وہ زہر جو معمول بن گیا
ایک شہری سرکاری دفتر جاتا ہے۔ اس کا کام قانوناً جائز ہے۔ اس نے تمام کاغذات جمع کرائے ہیں۔ اس نے فیس ادا کی ہے۔ لیکن پھر اسے ایک جملہ سنائی دیتا ہے:
کبھی "کچھ کرنا" رشوت ہوتی ہے۔ کبھی سفارش ہوتی ہے۔ کبھی کسی بڑے آدمی کا فون ہوتا ہے۔ کبھی فائل روک دی جاتی ہے۔ کبھی شہری کو بار بار بلایا جاتا ہے۔
یہ صرف چند سو یا چند ہزار روپے کا معاملہ نہیں۔ اصل نقصان شہری کے اعتماد کا ہوتا ہے۔
جس ملازم کو ریاست پہلے ہی اس کام کی تنخواہ دے رہی ہے، اگر وہ اسی کام کے لیے شہری سے ناجائز رقم طلب کرتا ہے تو وہ صرف ایک شخص کو نقصان نہیں پہنچا رہا۔ وہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کو توڑ رہا ہے۔
سفارش: قانون کے سامنے ایک خاموش دروازہ
سفارش ہر وقت رشوت کی طرح نظر نہیں آتی، لیکن کبھی کبھی اس کا نتیجہ وہی ہوتا ہے۔
ایک اہل شخص پیچھے رہ جاتا ہے اور کم اہل شخص آگے نکل جاتا ہے۔ ایک غریب شہری اپنی باری کا انتظار کرتا ہے اور بااثر شخص ایک فون پر کام کروا لیتا ہے۔
پھر معاشرہ اپنے بچوں کو کیا سکھاتا ہے؟
اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل merit پر قائم ہو تو ہمیں اپنے گھروں سے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو سفارش کا راستہ نہیں، قابلیت اور کردار کا راستہ دکھائیں گے۔
پولیس اسٹیشن اور ایک مظلوم شہری
جرم کا شکار شخص جب پولیس اسٹیشن پہنچتا ہے تو وہ کسی مہربانی کے لیے نہیں آتا۔ وہ ریاست کی طرف آتا ہے۔
اس کے پاس شاید صرف ایک موبائل فون، ایک شناخت، چند گواہ، کچھ ثبوت اور ایک امید ہو۔ وہ امید یہ ہوتی ہے کہ ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
اگر اسے اپنی شکایت درج کروانے کے لیے سفارش تلاش کرنا پڑے، اگر اسے اپنی ہی جیب سے investigation کروانی پڑے، اگر اسے بار بار افسر کے دفتر کے چکر لگانے پڑیں، یا اگر بااثر شخص کے دباؤ سے کارروائی رک جائے، تو نقصان صرف اس شہری کا نہیں ہوتا۔
اس لمحے ریاست کی ساکھ زخمی ہوتی ہے۔
دو پاکستان نہیں ہونے چاہئیں
ایک پاکستان وہ جہاں ایک غریب آدمی کئی سال عدالتوں کے چکر لگاتا رہے۔
اور دوسرا پاکستان وہ جہاں پیسہ، اثر و رسوخ، سیاسی تعلق یا طاقت رکھنے والا شخص اپنے لیے راستے پیدا کرلے۔
اگر جرم جرم ہے تو اس کا معیار شخص کے عہدے سے نہیں بدلنا چاہیے۔
غریب کا جرم بھی جرم ہے اور طاقتور کا جرم بھی جرم ہے۔ کمزور کا حق بھی حق ہے اور بااثر شخص کے سامنے کھڑے ہونے والے کا حق بھی حق ہے۔
خلفائے راشدین: اقتدار نہیں، امانت
اسلام کی ابتدائی تاریخ میں حکمرانی کو محض اقتدار اور مراعات کا ذریعہ نہیں سمجھا گیا۔ خلفائے راشدین کے دور کی متعدد روایات ہمیں یہ تصور دکھاتی ہیں کہ حاکم اور سرکاری اہلکار خود بھی جواب دہ ہیں۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
خلافت سنبھالتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حکمرانی کو ذاتی بادشاہت نہیں بلکہ ذمہ داری کے طور پر پیش کیا۔ ان کی حکمرانی کا بنیادی مزاج یہ تھا کہ اگر وہ درست ہوں تو ان کی مدد کی جائے اور اگر وہ غلط ہوں تو ان کی اصلاح کی جائے۔
یہ تصور آج کے ہر حکمران کے لیے سوال ہے:
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شخصیت اسلامی حکمرانی میں accountability کی ایک مضبوط علامت بن گئی۔ ان کے دور میں گورنروں اور اہلکاروں کے طرزِ زندگی، مال اور عوام سے برتاؤ کو اہم سمجھا جاتا تھا۔
یہ ہمیں ایک بنیادی اصول دیتا ہے:
اگر ایک معمولی سرکاری ملازم سے جواب مانگا جا سکتا ہے تو بڑے عہدے پر بیٹھا شخص خود کو جواب دہی سے بالاتر کیسے سمجھ سکتا ہے؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زندگی میں عدالت، علم، حق اور اصول کے ایسے واقعات ملتے ہیں جو ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ عدل کا معیار دوست اور دشمن کے بدلنے سے نہیں بدلتا۔
یہی وہ اخلاقی بلندی ہے جس کی پاکستان کو ضرورت ہے۔
تطہیر کا مطلب انتقام نہیں
پاکستان کی صفائی ضروری ہے، لیکن صفائی کا مطلب یہ نہیں کہ جسے ہم برا سمجھیں اسے ختم کردیں۔
اسلام میں عدل کے نام پر ظلم کی اجازت نہیں۔
جس شخص پر جرم کا الزام ہے، اس کے خلاف تحقیق ہونی چاہیے۔ ثبوت ہونا چاہیے۔ مقدمہ ہونا چاہیے۔ اسے قانونی دفاع کا حق ہونا چاہیے۔ فیصلہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ اور جرم ثابت ہو تو سزا بھی قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔
کرپشن کے نیٹ ورک توڑے جائیں۔ غیر قانونی دولت کی تحقیقات ہوں۔ جرائم کے ثبوت جمع کیے جائیں۔ مجرم ثابت ہونے والوں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ سرکاری عہدے کو جرم چھپانے کی ڈھال نہ بننے دیا جائے۔
لیکن کسی سیاسی، مذہبی، فوجی، لسانی یا ذاتی اختلاف کو جرم کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
جب صفائی شروع ہوگی تو تکلیف بھی ہوگی
ایک بیمار جسم کی صفائی ہمیشہ آرام دہ نہیں ہوتی۔ اگر پاکستان واقعی اپنے اندر موجود کرپشن، جرائم، جعلی دستاویزات، ناجائز دولت، سیاسی اثر و رسوخ، ادارہ جاتی کمزوری اور قانون شکنی کا سامنا کرے گا تو کچھ عرصے کے لیے مشکلات بڑھ بھی سکتی ہیں۔
پرانے مقدمات سامنے آسکتے ہیں۔ بڑے مالی معاملات کی تحقیقات ہوسکتی ہیں۔ اداروں میں اصلاح کی ضرورت سامنے آسکتی ہے۔ کچھ طاقتور لوگ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے مزاحمت کرسکتے ہیں۔
لیکن یہ سب کچھ قانون کے اندر رہ کر ہونا چاہیے۔
100 فیصد انصاف والا پاکستان: ذرا تصور کیجیے
اب کچھ لمحوں کے لیے اپنی تمام مایوسی ایک طرف رکھ دیں۔ سیاست، جماعت، اختلاف، غصہ اور شکایت سب ایک طرف رکھ دیں۔
صرف ایک پاکستان کا تصور کریں: جہاں قانون واقعی کام کرتا ہو۔
پولیس اسٹیشن
ایک عورت پولیس اسٹیشن میں داخل ہوتی ہے۔ اسے کسی بڑے آدمی کا فون نہیں چاہیے۔ اسے کسی افسر کی سفارش نہیں چاہیے۔ اسے کسی کو رشوت نہیں دینی۔ وہ اپنی شکایت درج کرواتی ہے اور investigation قانون کے مطابق شروع ہوجاتی ہے۔
عدالت
غریب اور امیر دونوں کو fair trial ملتا ہے۔ مظلوم کی آواز بھی سنی جاتی ہے اور ملزم کے حقوق بھی محفوظ رہتے ہیں۔ جج کسی دباؤ کے بغیر قانون اور ثبوت کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔
سرکاری دفتر
شہری اپنا کام کروانے جاتا ہے۔ افسر اس کی خدمت کرتا ہے۔ شہری کو یہ نہیں سوچنا پڑتا کہ "کس کو جانتا ہوں؟" اسے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ "میرا حق کیا ہے؟"
تعلیم
ڈگری قابلیت کی علامت ہوتی ہے۔ جعلی qualification کے ذریعے کسی نوجوان کا حق نہیں مارا جاتا۔ نوکری سفارش سے نہیں، merit سے ملتی ہے۔
کاروبار
تاجر یہ حساب نہیں لگاتا کہ کسی کام کے لیے کتنی رشوت دینی پڑے گی۔ وہ یہ حساب لگاتا ہے کہ اپنی مصنوعات بہتر کیسے بنانی ہیں، نئی ملازمتیں کیسے پیدا کرنی ہیں اور پاکستان سے دنیا تک کیسے پہنچنا ہے۔
سیاست
حکومت اور opposition ایک دوسرے کے سیاسی حریف ہوں، ریاستی دشمن نہیں۔ حکومت تبدیل ہو تو ریاست نہیں ٹوٹتی۔ ادارے کسی ایک جماعت کے نہیں رہتے۔ آئین ہر حکومت اور ہر opposition کے لیے ایک ہی معیار رکھتا ہے۔
صحافت
صحافی کو سچ بولنے کی آزادی ہو، لیکن جھوٹ اور بہتان پھیلانے کی ذمہ داری بھی سمجھ آئے۔ آزادی اور ذمہ داری ایک دوسرے کی دشمن نہیں بلکہ ساتھی ہوں۔
فوج
فوج مضبوط ہو، باوقار ہو، پیشہ ور ہو اور ملک کی حفاظت کے لیے وقف ہو۔ لیکن ریاست کسی فرد کی ذاتی ملکیت نہ ہو۔ ادارے افراد سے بڑے ہوں اور آئین ریاستی نظام کی بنیاد ہو۔
100 فیصد انصاف آئے گا تو پاکستان میں کیا بدلے گا؟
جب جرم کرنے والے کو یقین ہو کہ قانون اسے پکڑ سکتا ہے تو crime کا ماحول بدلتا ہے۔
جب رشوت لینے والے کو معلوم ہو کہ اس کا احتساب ہوگا تو رشوت کا خطرہ بڑھتا ہے۔
جب کاروباری شخص کو معلوم ہو کہ اس کا معاہدہ عدالت میں قابلِ اعتماد ہے تو investment کا ماحول بہتر ہوتا ہے۔
جب شہری کو معلوم ہو کہ اس کی جان، عزت، آزادی اور مال قانون کے تحت محفوظ ہیں تو وہ ریاست سے نفرت نہیں بلکہ اعتماد کرنا شروع کرتا ہے۔
لیکن ایک سوال حکمرانوں سے پہلے ہم سے
ہم اکثر کہتے ہیں کہ حکمران خراب ہیں۔ سیاست دان خراب ہیں۔ پولیس خراب ہے۔ عدالتیں خراب ہیں۔ افسر خراب ہیں۔ صحافی خراب ہیں۔
لیکن ذرا رک کر اپنے آپ کو بھی دیکھیں۔
کیا ہم نے کبھی رشوت دی؟ کیا ہم نے کبھی ناجائز سفارش استعمال کی؟ کیا ہم نے کبھی جھوٹی خبر آگے بڑھائی؟ کیا ہم نے کبھی کسی مخالف پر بغیر ثبوت الزام لگایا؟ کیا ہم نے کبھی اپنے پسندیدہ شخص کی غلطی کو صرف اس لیے درست کہا کہ وہ ہمارا اپنا تھا؟ کیا ہم نے کسی مظلوم کو اس لیے نظر انداز کیا کہ وہ ہمارے گروہ کا حصہ نہیں تھا؟
اللہ کسی قوم کی حالت کب بدلتا ہے؟
سورۃ الرعد، 13:11
اس آیت کو صرف ایک خوبصورت جملہ بنا کر دیوار پر لگانے کے بجائے اپنی زندگی کا سوال بنانا ہوگا۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان بدلے تو ہمیں بھی بدلنا ہوگا۔
اگر افسر رشوت نہ لے تو تبدیلی ہے۔ اگر شہری رشوت دینے سے انکار کرے اور قانونی راستہ اختیار کرے تو تبدیلی ہے۔ اگر پولیس افسر مظلوم کے ساتھ کھڑا ہو تو تبدیلی ہے۔ اگر وکیل اپنے علم کو انصاف کے لیے استعمال کرے تو تبدیلی ہے۔ اگر جج دباؤ کے باوجود قانون کے مطابق فیصلہ کرے تو تبدیلی ہے۔ اگر صحافی خبر کو امانت سمجھے تو تبدیلی ہے۔ اگر سیاست دان اپنے مخالف کے حق کو تسلیم کرے تو تبدیلی ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں کو دیانت سکھائیں تو تبدیلی ہے۔
ایک دوسرے کا احساس کرو
شاید پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت صرف قانون نہیں، احساس بھی ہے۔
پولیس افسر یہ محسوس کرے کہ سامنے کھڑی عورت کسی کی ماں ہے۔ جج یہ محسوس کرے کہ اس کے سامنے موجود مقدمے کے پیچھے کسی خاندان کی پوری زندگی ہے۔ وکیل یہ محسوس کرے کہ اس کے الفاظ کسی انسان کی آزادی کا فیصلہ بدل سکتے ہیں۔ افسر یہ محسوس کرے کہ اس کی میز کے سامنے کھڑا شخص شاید کئی دن کی مزدوری چھوڑ کر یہاں آیا ہے۔ تاجر یہ محسوس کرے کہ گاہک صرف رقم نہیں بلکہ ایک انسان ہے۔ سیاست دان یہ محسوس کرے کہ opposition کا کارکن بھی پاکستانی ہے۔ عام شہری یہ محسوس کرے کہ دوسرے کا حق بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا اپنا حق۔
ہر پاکستانی کے لیے ایک چھوٹا سا عہد
تبدیلی کا آغاز ہمیشہ بڑے دفتر سے نہیں ہوتا۔ کبھی یہ ایک چھوٹے سے فیصلے سے شروع ہوتی ہے۔
- میں جھوٹی خبر کو آگے نہیں بڑھاؤں گا۔
- میں بغیر ثبوت کسی پر الزام نہیں لگاؤں گا۔
- میں اپنے جائز حق کے لیے قانونی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کروں گا۔
- میں جہاں ممکن ہو رشوت سے انکار کروں گا۔
- میں سفارش کے ذریعے نااہل شخص کو اہل شخص پر ترجیح نہیں دوں گا۔
- میں اپنے سیاسی مخالف کے بنیادی حقوق کا بھی احترام کروں گا۔
- میں اپنے پسندیدہ شخص کی غلطی کو بھی غلط کہنے کی ہمت پیدا کروں گا۔
- میں اپنے بچوں کو دیانت، قانون اور دوسروں کے حقوق کا احترام سکھاؤں گا۔
- میں ظلم کو صرف اس لیے درست نہیں سمجھوں گا کہ وہ میرے مفاد میں ہے۔
اور اب ریاست سے ایک سوال
صدر سے سوال ہے: کیا آپ ریاستی منصب کو امانت سمجھتے ہیں؟
حکومت سے سوال ہے: کیا شہری کو قانون کے مطابق اپنا حق حاصل کرنے کے لیے کسی طاقتور شخص کی ضرورت ہونی چاہیے؟
پارلیمنٹ سے سوال ہے: کیا قانون بنانے کا مقصد شہری کو تحفظ دینا ہے یا طاقتور کو تحفظ دینا؟
عدلیہ سے سوال ہے: کیا عدالت کا دروازہ غریب کے لیے بھی اتنا ہی کھلا ہے جتنا امیر کے لیے؟
پولیس سے سوال ہے: کیا مظلوم کو ریاست تک پہنچنے کے لیے سفارش کی ضرورت ہے؟
وکلاء سے سوال ہے: کیا قانون صرف مقدمہ جیتنے کا ذریعہ ہے یا انصاف تک پہنچنے کا راستہ بھی؟
صحافت سے سوال ہے: کیا خبر ایک امانت ہے یا صرف audience حاصل کرنے کا ذریعہ؟
فوج سے سوال ہے: کیا ریاست افراد سے بڑی ہے اور آئین اداروں سے بھی بالاتر ایک مشترک عہد ہے؟
اور عام پاکستانی سے سوال ہے:
پاکستان کو ختم نہیں کرنا، پاکستان کو دوبارہ زندہ کرنا ہے
ہم پاکستان کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم پاکستان کے زخموں کے خلاف ہیں۔
ہم پولیس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم اس پولیسنگ کے خلاف ہیں جس میں مظلوم خود کو بے سہارا محسوس کرے۔
ہم عدالت کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم اس تاخیر اور ناانصافی کے خلاف ہیں جو شہری کا اعتماد توڑ دے۔
ہم فوج کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم ہر اس تصور کے خلاف ہیں جس میں کوئی فرد یا ادارہ خود کو قانون اور جواب دہی سے بالاتر سمجھنے لگے۔
ہم سیاست کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم اس سیاست کے خلاف ہیں جس میں ریاست سے زیادہ جماعت اہم ہوجائے۔
ہم آزادیٔ اظہار کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم جھوٹ اور بہتان کے بھی خلاف ہیں، اور غیرمنصفانہ خاموشی کے بھی۔
زندگی بچانے والا انجیکشن
پاکستان کو ایک ہی دن میں تبدیل کرنے کا دعویٰ کوئی حقیقت پسندانہ بات نہیں۔ لیکن علاج شروع کیا جا سکتا ہے۔
پہلا انجیکشن: آئین کی بالادستی۔
دوسرا انجیکشن: قانون سب کے لیے برابر۔
تیسرا انجیکشن: پولیس اور investigation کی اصلاح۔
چوتھا انجیکشن: تیز، شفاف اور منصفانہ عدالتی نظام۔
پانچواں انجیکشن: رشوت اور سفارش کے خلاف مؤثر institutional controls۔
چھٹا انجیکشن: آزاد، ذمہ دار اور پیشہ ور صحافت۔
ساتواں انجیکشن: عوام کو اپنے آئینی اور قانونی حقوق کی تعلیم۔
آٹھواں انجیکشن: سیاسی اختلاف کو دشمنی سے نکال کر آئینی competition میں تبدیل کرنا۔
نواں انجیکشن: سرکاری عہدے کو privilege نہیں بلکہ امانت سمجھنا۔
دسواں انجیکشن: فرد، ادارے اور پوری قوم کا اپنے کردار کا احتساب۔
یہ سفر یہاں ختم نہیں ہوتا
اگر یہ تحریر صرف پڑھی گئی اور بند کردی گئی تو یہ بھی ہزاروں تحریروں کی طرح گزر جائے گی۔
لیکن اگر ایک شخص اس سے ایک سوال لے کر اٹھا، ایک نوجوان نے اس پر ایک Reel بنائی، ایک استاد نے اسے اپنی کلاس میں زیر بحث لایا، ایک وکیل نے اپنے chamber میں انصاف پر گفتگو کی، ایک صحافی نے اس کے کسی سوال کو تحقیق کا موضوع بنایا، ایک پولیس افسر نے اپنے اختیار کو دوبارہ امانت سمجھا، ایک تاجر نے رشوت سے انکار کیا، ایک والد نے اپنے بچے کو دیانت سکھائی، یا ایک شہری نے اپنے مخالف کے حق کا احترام کیا، تو یہ پکار اپنا سفر شروع کرچکی ہے۔
اور اب پاکستان کے لیے ایک خواب
ایک ایسا پاکستان جہاں بچے اسکول جاتے ہوئے خوفزدہ نہ ہوں۔
ایک ایسا پاکستان جہاں عورت پولیس اسٹیشن میں خود کو بے سہارا نہ سمجھے۔
ایک ایسا پاکستان جہاں غریب عدالت کے دروازے پر اپنی غربت کی سزا نہ بھگتے۔
ایک ایسا پاکستان جہاں امیر قانون سے بالاتر نہ ہو۔
ایک ایسا پاکستان جہاں سرکاری دفتر میں شہری کو اپنے حق کے لیے رشوت نہ دینی پڑے۔
ایک ایسا پاکستان جہاں نوکری قابلیت سے ملے۔
ایک ایسا پاکستان جہاں سیاست اختلاف کو دشمنی نہ بنائے۔
ایک ایسا پاکستان جہاں فوج مضبوط ہو، عدلیہ آزاد ہو، پارلیمنٹ بااختیار ہو، پولیس قابلِ اعتماد ہو، میڈیا ذمہ دار اور آزاد ہو اور ہر ادارہ آئینی حدود میں اپنا کام کرے۔
ایک ایسا پاکستان جہاں قرآن صرف گھروں میں تلاوت نہ ہو بلکہ عدل، امانت، رحم اور حق کے اصول ہمارے کردار میں بھی نظر آئیں۔
ایک ایسا پاکستان جہاں مسلمان اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے دوسروں کے حقوق کی حفاظت کو بھی ایمان کا حصہ سمجھیں۔
پاکستان دنیا کی قیادت کیسے کرے گا؟
دنیا کی قیادت صرف بڑی فوج، بڑی معیشت یا بڑی عمارتوں سے نہیں ہوتی۔
ایک ملک اس وقت حقیقی مثال بنتا ہے جب اس کے شہری اپنے ملک پر اعتماد کرتے ہیں، جب قانون طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے ایک معیار رکھتا ہے، جب علم کو عزت ملتی ہے، جب کاروبار دیانت کے ساتھ چلتا ہے، جب عدالت انصاف دیتی ہے اور جب حکومت عوام کو خوف نہیں بلکہ تحفظ دیتی ہے۔
اگر پاکستان عدل، علم، امانت، امن، رحم، قانون اور کردار کو اپنی طاقت بنا لے تو وہ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ مسلم دنیا اور پوری انسانیت کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔
یہ اختتام نہیں
شاید پاکستان کے پاس ہر مسئلے کا فوری حل موجود نہیں۔ شاید ہمارے مسائل ہماری سوچ سے بھی زیادہ گہرے ہیں۔ شاید آنے والے سال آسان نہ ہوں۔
لیکن ایک بیمار انسان اس وقت تک زندہ رہنے کی امید رکھتا ہے جب تک علاج کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔
پاکستان بھی زندہ ہے۔
اس کے نوجوان زندہ ہیں۔ اس کے بچے زندہ ہیں۔ اس کے استاد زندہ ہیں۔ اس کے محنت کش زندہ ہیں۔ اس کے دیانت دار پولیس افسر زندہ ہیں۔ اس کے مخلص وکیل زندہ ہیں۔ اس کے انصاف پسند جج زندہ ہیں۔ اس کے سچے صحافی زندہ ہیں۔ اس کے دیانت دار تاجر زندہ ہیں۔ اس کے مخلص سیاست دان بھی موجود ہیں۔ اور اس قوم کے اندر ابھی بھی ایمان، غیرت، محبت، رحم اور انصاف کی چنگاری زندہ ہے۔
ضرورت صرف یہ ہے کہ ہم اس چنگاری کو بجھنے نہ دیں۔
ہمیں اسی پاکستان کو نئے کردار کے ساتھ دوبارہ زندہ کرنا ہے۔
ظلم کے مقابلے میں عدل۔
جھوٹ کے مقابلے میں سچ۔
رشوت کے مقابلے میں امانت۔
نفرت کے مقابلے میں احساس۔
انتقام کے مقابلے میں انصاف۔
مایوسی کے مقابلے میں امید۔
یہ اختتام نہیں۔
یہ آخری پکار ہے۔
موت کے لیے نہیں۔
زندگی کے لیے۔
پاکستان کے لیے۔
ہمیں صرف شکایت نہیں کرنی، اپنا حصہ بھی ادا کرنا ہے
ہم نے بہت شکایت کرلی۔ حکومت سے شکایت، پولیس سے شکایت، عدالت سے شکایت، سیاست دانوں سے شکایت، مہنگائی سے شکایت، کرپشن سے شکایت، تعلیم سے شکایت، میڈیا سے شکایت۔
شکایتیں اپنی جگہ درست ہوسکتی ہیں، لیکن اب ایک اور سوال بھی پوچھنا ہوگا:
یہ سوال شاید سب سے مشکل ہے۔ کیونکہ دوسروں کا احتساب کرنا آسان ہے، اپنا احتساب کرنا مشکل۔
ہم چاہتے ہیں پولیس ایماندار ہو، لیکن کیا ہم پولیس والے کو رشوت دینے سے انکار کریں گے؟ ہم چاہتے ہیں جج انصاف کرے، لیکن کیا ہم عدالت میں جھوٹا بیان دینے سے انکار کریں گے؟ ہم چاہتے ہیں سیاست دان ایماندار ہوں، لیکن کیا ہم اپنے پسندیدہ سیاست دان کی غلطی کو بھی غلط کہیں گے؟ ہم چاہتے ہیں میڈیا سچ بولے، لیکن کیا ہم بغیر تحقیق کے جھوٹی خبر آگے بھیجنا چھوڑیں گے؟ ہم چاہتے ہیں سرکاری افسر سفارش نہ لے، لیکن کیا ہم اپنا کام جلدی کروانے کے لیے کسی بااثر شخص کا فون استعمال نہیں کریں گے؟
تبدیلی کا آغاز ہمیشہ ایوانِ اقتدار سے نہیں ہوتا۔ کبھی ایک عام انسان اپنے دل میں فیصلہ کرتا ہے اور وہی فیصلہ پورے معاشرے میں ایک نئی لکیر کھینچ دیتا ہے۔
ہم سب اس کھیل کا حصہ کیسے بن گئے؟
شاید یہ کہنا آسان ہے کہ خرابی صرف اوپر ہے۔ شاید یہ کہنا بھی آسان ہے کہ خرابی صرف نیچے ہے۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
ایک معاشرہ اس وقت خراب نہیں ہوتا جب صرف چند لوگ برے ہوجائیں۔ معاشرہ اس وقت کمزور ہونا شروع ہوتا ہے جب اچھے لوگ خاموش ہوجائیں، ایماندار لوگ پیچھے ہٹ جائیں اور غلط کام آہستہ آہستہ معمول بن جائیں۔
پھر رشوت لینے والا اکیلا نہیں رہتا۔ رشوت دینے والا بھی اس نظام کا حصہ بن جاتا ہے۔
جھوٹ بولنے والا اکیلا نہیں رہتا۔ اسے پھیلانے والا بھی اس سفر میں شامل ہوجاتا ہے۔
ظلم کرنے والا اکیلا نہیں رہتا۔ ظلم دیکھ کر خاموش رہنے والا بھی اس خاموشی کا بوجھ اٹھاتا ہے۔
یہ بات کسی کو مایوس کرنے کے لیے نہیں کہی جا رہی۔ بلکہ اس لیے کہ ہمیں اپنی طاقت کا احساس ہو۔
خاموشی بھی کبھی کبھی ظلم کو طاقت دیتی ہے
ہر شخص کے پاس حکومت تبدیل کرنے کی طاقت نہیں ہوتی۔ ہر شخص کے پاس عدالت تک پہنچنے کے وسائل نہیں ہوتے۔ ہر شخص صحافی نہیں ہوتا۔ ہر شخص وکیل نہیں ہوتا۔ ہر شخص پولیس افسر یا سرکاری افسر نہیں ہوتا۔
لیکن ہر انسان کے پاس ایک چیز ضرور ہوتی ہے: اس کا کردار۔
ایک دکاندار اپنی دکان میں انصاف کرسکتا ہے۔ ایک استاد اپنے طالب علم کے ساتھ انصاف کرسکتا ہے۔ ایک والد اپنے بچوں کو سچ سکھا سکتا ہے۔ ایک نوجوان جھوٹی خبر روک سکتا ہے۔ ایک ملازم رشوت لینے سے انکار کرسکتا ہے۔ ایک افسر اپنے اختیار کو امانت سمجھ سکتا ہے۔ ایک وکیل اپنے علم کو مظلوم کے حق کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ ایک جج قانون اور ضمیر کے مطابق فیصلہ کرسکتا ہے۔ ایک صحافی خبر کو امانت سمجھ سکتا ہے۔
شاید یہ چھوٹے کام نظر آئیں۔ مگر قومیں انہی چھوٹے کرداروں سے بنتی ہیں۔
ریاست کی اصل طاقت کیا ہے؟
ریاست کی طاقت صرف اس کی فوج نہیں۔ صرف پولیس نہیں۔ صرف عدالت نہیں۔ صرف پارلیمنٹ نہیں۔ صرف خزانہ نہیں۔
ریاست کی سب سے بڑی طاقت اس کے شہریوں کا اعتماد ہے۔
جب شہری کو یقین ہو کہ اس کے ساتھ انصاف ہوگا تو وہ قانون کا احترام کرتا ہے۔ جب اسے یقین ہو کہ قانون صرف کمزور کے لیے ہے تو وہ قانون سے بچنے کے راستے تلاش کرتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک ریاست مضبوط یا کمزور ہوتی ہے۔
عدل صرف سزا دینے کا نام نہیں
ہم نے انصاف کو اکثر سزا کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ جیسے انصاف کا مطلب صرف یہ ہو کہ مجرم کو پکڑو، جیل بھیجو اور سزا دو۔
لیکن عدل اس سے کہیں بڑا تصور ہے۔
عدل کا مطلب یہ بھی ہے کہ بے گناہ کو سزا نہ ملے۔ مظلوم کی آواز سنی جائے۔ ملزم کو دفاع کا حق دیا جائے۔ گواہ کے ساتھ انصاف ہو۔ تفتیش درست ہو۔ ثبوت محفوظ ہوں۔ فیصلہ قانون کے مطابق ہو۔ سزا جرم کے مطابق ہو۔ طاقتور اور کمزور کے لیے ایک معیار ہو۔
اگر ایک بے گناہ شخص کو صرف اس لیے سزا دے دی جائے کہ وہ کمزور تھا تو یہ بھی ظلم ہے۔
اگر ایک مجرم صرف اس لیے بچ جائے کہ وہ طاقتور تھا تو یہ بھی ظلم ہے۔
اگر کسی شخص کو صرف سیاسی اختلاف کی وجہ سے مجرم سمجھ لیا جائے تو یہ بھی ظلم ہے۔
اور اگر کسی مجرم کو صرف اس لیے چھوڑ دیا جائے کہ وہ ہمارا اپنا آدمی ہے تو یہ بھی ظلم ہے۔
سورۃ المائدہ، 5:8
ذرا اس حکم کی گہرائی دیکھیے۔
قرآن ہمیں صرف اپنے دوستوں کے ساتھ انصاف کرنے کا نہیں کہتا۔ ہمیں اپنے مخالف کے ساتھ بھی انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی، مذہبی، لسانی اور ذاتی تعصبات ختم ہوتے ہیں اور حقیقی تقویٰ شروع ہوتا ہے۔
اگر کل ہمارا مخالف مظلوم ہو تو؟
یہ سوال پاکستان کے مستقبل کا امتحان ہے۔
اگر کل کوئی ایسا شخص جس سے ہمیں شدید سیاسی اختلاف ہے، ہمارے سامنے ظلم کا شکار ہو، تو کیا ہم اس کے حق میں کھڑے ہوں گے؟
اگر ہمارا مخالف گرفتار ہو تو کیا ہم اس کے fair trial کے حق کو تسلیم کریں گے؟
اگر ہمارا سیاسی دشمن عدالت میں جائے تو کیا ہم چاہیں گے کہ اسے قانون کے مطابق انصاف ملے؟
اگر جواب ہاں ہے تو ہم پاکستان کو بچانے کے راستے پر ہیں۔
لیکن اگر ہم کہیں کہ "چونکہ وہ ہمارا دشمن ہے، اس لیے اس کے ساتھ جو چاہو کرو"، تو ہمیں اپنے اندر جھانکنا ہوگا۔
اقتدار ہمیشہ نہیں رہتا
تاریخ نے کسی حکمران کو ہمیشہ کے لیے اقتدار نہیں دیا۔ نہ بادشاہ ہمیشہ بادشاہ رہا۔ نہ فاتح ہمیشہ فاتح رہا۔ نہ حکومت ہمیشہ قائم رہی۔ نہ دولت ہمیشہ ساتھ رہی۔
انسان جب طاقت حاصل کرتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ یہ طاقت ہمیشہ اس کے پاس رہے گی۔ لیکن وقت خاموشی سے اسے دیکھتا رہتا ہے۔
آج جس کرسی پر کوئی بیٹھا ہے، کل وہاں کوئی اور ہوگا۔ آج جس دفتر میں کوئی حکم دے رہا ہے، کل وہاں کوئی دوسرا ہوگا۔ آج جس فائل پر کسی کے دستخط ہیں، کل وہ فائل تاریخ کا حصہ ہوگی۔
لیکن ایک چیز باقی رہتی ہے:
یہی سوال صرف دنیا نہیں پوچھے گی۔ ایک دن انسان کو اپنے رب کے سامنے بھی جواب دینا ہوگا۔
قرآن کا ایک اور آئینہ
اس لیے ظلم کے خلاف آواز اٹھانا کسی شخص یا جماعت سے دشمنی نہیں۔ اگر آواز میں عدل ہو، زبان میں سچ ہو، نیت میں اصلاح ہو اور طریقہ قانون کے اندر ہو تو یہ معاشرے کی خیر خواہی ہوسکتی ہے۔
لیکن ہمیں ایک اور خطرے سے بھی بچنا ہوگا۔
ظلم کے خلاف لڑتے لڑتے ہم خود ظالم نہ بن جائیں۔
قانون کی بالادستی کا مطلب کیا ہے؟
Law and Order کا مطلب صرف یہ نہیں کہ پولیس سڑک پر موجود ہو۔
Rule of Law کا مطلب یہ ہے کہ ریاستی طاقت بھی قانون کے تابع ہو۔
عام شہری قانون کا پابند ہو۔ سرکاری ملازم قانون کا پابند ہو۔ وزیر قانون کا پابند ہو۔ جج قانون اور آئینی حلف کا پابند ہو۔ پولیس افسر قانون کا پابند ہو۔ جرنیل بھی آئینی نظام کے اندر ذمہ دار ہو۔ تاجر بھی قانون کا پابند ہو۔ اور عام آدمی بھی۔
ایک مثالی پولیس اسٹیشن کا تصور
آئیے صرف خواب نہ دیکھیں۔ ایک منظر اپنے ذہن میں بنائیں۔
رات کے وقت ایک شہری پولیس اسٹیشن پہنچتا ہے۔ اس کے ساتھ کوئی وزیر نہیں۔ کوئی جرنیل نہیں۔ کوئی وکیلوں کی بڑی ٹیم نہیں۔ کوئی سفارش نہیں۔ صرف اس کی شکایت اور اس کا حق ہے۔
ڈیوٹی افسر اس کی بات پوری سنتا ہے۔ اس کی درخواست درج ہوتی ہے۔ ثبوت محفوظ کیے جاتے ہیں۔ investigation شروع ہوتی ہے۔ افسر اپنی ذمہ داری پوری کرتا ہے۔ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ملزم کو قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔
نہ مظلوم کو ذلیل کیا جاتا ہے۔ نہ ملزم کو بغیر ثبوت مجرم قرار دیا جاتا ہے۔ نہ کسی طاقتور فون سے investigation رکتی ہے۔
یہی پولیس عوام کے لیے خوف کی نہیں بلکہ اعتماد کی علامت بن سکتی ہے۔
ایک مثالی عدالت کا تصور
عدالت میں داخل ہونے والا شخص یہ نہ سوچے کہ میرے پاس کتنا پیسہ ہے۔ وہ صرف یہ سوچے:
مقدمہ غیر ضروری طور پر نسلوں تک نہ چلے۔ تاریخ پر تاریخ انصاف کا متبادل نہ بنے۔ evidence کی قدر ہو۔ جھوٹے مقدمات کی حوصلہ شکنی ہو۔ غریب کو قانونی مدد میسر ہو۔ وکیل اپنے پیشے کی حرمت سمجھے۔ جج اپنے منصب کو اللہ کی امانت سمجھے۔
اور جب فیصلہ آئے تو دونوں فریق جانتے ہوں کہ فیصلہ کسی شخص کی طاقت سے نہیں بلکہ قانون اور ثبوت سے ہوا ہے۔
ایک مثالی سرکاری دفتر
تصور کیجیے کہ شہری ایک سرکاری دفتر میں داخل ہوتا ہے اور اسے پہلے ہی معلوم ہے کہ:
- کون سی فیس ہے۔
- کون سے کاغذات ضروری ہیں۔
- کام مکمل ہونے کا وقت کتنا ہے۔
- شکایت کہاں درج ہوگی۔
- کون سا افسر ذمہ دار ہے۔
- اگر کام بلاوجہ روکا جائے تو appeal کہاں ہوگی۔
اسے کسی "چائے پانی" کی ضرورت نہیں۔ اسے کسی "اپنے آدمی" کی ضرورت نہیں۔ اسے کسی طاقتور شخص کے دفتر جانے کی ضرورت نہیں۔
یہی Digital Pakistan کا حقیقی حسن ہوگا۔ صرف موبائل ایپ بنا دینا Digital Pakistan نہیں۔ شہری کے حق کو شفاف، قابلِ رسائی اور قابلِ احتساب بنانا اصل ترقی ہے۔
ایک ایسا پاکستان جہاں نوجوان ملک چھوڑنا نہ چاہے
آج ہمارے نوجوانوں کے دل میں ایک سوال ہے:
جب نوجوان قابلیت کے باوجود سفارش دیکھتا ہے تو اس کا اعتماد ٹوٹتا ہے۔ جب وہ تعلیم حاصل کرکے بھی ناانصافی دیکھتا ہے تو وہ مایوس ہوتا ہے۔ جب اسے اپنے مستقبل کے لیے بیرون ملک جانا واحد راستہ محسوس ہوتا ہے تو ملک صرف ایک فرد نہیں کھوتا۔
وہ ایک ذہن کھوتا ہے۔ ایک ہنر کھوتا ہے۔ ایک کاروباری امکان کھوتا ہے۔ ایک مستقبل کا استاد، ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، entrepreneur یا researcher کھوتا ہے۔
ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں نوجوان دنیا میں جانے کے لیے آزاد ہو، لیکن پاکستان چھوڑنے پر مجبور نہ ہو۔
ہمیں صرف ترقی یافتہ پاکستان نہیں، باکردار پاکستان چاہیے
بلند عمارتیں ترقی کی علامت ہوسکتی ہیں۔ موٹر ویز ترقی کی علامت ہوسکتی ہیں۔ جدید airport ترقی کی علامت ہوسکتا ہے۔ تیز internet ترقی کی علامت ہوسکتا ہے۔ بڑی معیشت ترقی کی علامت ہوسکتی ہے۔
لیکن اگر انہی عمارتوں کے سائے میں انصاف بک رہا ہو تو ترقی ادھوری ہے۔
ہمیں ایسا پاکستان نہیں چاہیے جو صرف امیر ہو۔
ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جو امین بھی ہو۔
ایسا پاکستان جو طاقتور بھی ہو اور رحم دل بھی۔ جدید بھی ہو اور بااصول بھی۔ ترقی یافتہ بھی ہو اور عادل بھی۔ مضبوط بھی ہو اور قانون کا پابند بھی۔
یہ خواب صرف میرا نہیں ہونا چاہیے
میں چاہتا ہوں کہ یہ خواب ہر پاکستانی کا خواب بنے۔
صدر اسے پڑھے تو اپنے منصب کو امانت سمجھے۔ جج پڑھے تو عدل کی عظمت یاد کرے۔ وکیل پڑھے تو اپنے علم کی ذمہ داری محسوس کرے۔ پولیس افسر پڑھے تو وردی کی حرمت یاد کرے۔ فوجی افسر پڑھے تو ملک اور آئین کی امانت کو سمجھے۔ سیاست دان پڑھے تو اقتدار کی عارضی حقیقت کو سمجھے۔ صحافی پڑھے تو قلم کی امانت کو سمجھے۔ استاد پڑھے تو نسل کی ذمہ داری محسوس کرے۔ تاجر پڑھے تو حلال رزق اور دیانت کو اپنی طاقت بنائے۔ نوجوان پڑھے تو مایوسی کے بجائے تعمیر کا راستہ اختیار کرے۔ اور فٹ پاتھ پر بیٹھا غریب پاکستانی پڑھے تو اسے محسوس ہو:
میرا حق بھی ہے۔
میری عزت بھی ہے۔
میری آواز بھی ہے۔
اور شاید یہی اصل آزادی ہے
آزادی صرف یہ نہیں کہ ہم ایک ملک میں رہتے ہیں۔
حقیقی آزادی یہ بھی ہے کہ انسان ظلم سے محفوظ ہو۔ قانون اسے تحفظ دے۔ اس کی عزت محفوظ ہو۔ اس کا مال محفوظ ہو۔ اس کی جان محفوظ ہو۔ اس کی جائز آواز سنی جائے۔ اسے اپنے حق کے لیے کسی طاقتور کے قدموں میں نہ بیٹھنا پڑے۔
ایک آزاد قوم وہ نہیں جس کے پاس صرف اپنا جھنڈا ہو۔ آزاد قوم وہ ہے جس کے شہری قانون کے سامنے خود کو محفوظ سمجھیں۔
اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے
ہم چاہیں تو اسی طرح شکایت کرتے رہیں۔
ہم چاہیں تو ہر نئی نسل کو بتاتے رہیں کہ پاکستان میں کچھ نہیں ہوسکتا۔
ہم چاہیں تو اپنے بچوں کو کہیں کہ پڑھو، قابلیت حاصل کرو اور موقع ملتے ہی ملک چھوڑ دو۔
یا ہم ایک مختلف فیصلہ کرسکتے ہیں۔
ہم اپنے بچوں سے کہہ سکتے ہیں:
ہم نوجوانوں سے کہہ سکتے ہیں: صرف تنقید نہ کرو، تحقیق کرو۔ صرف غصہ نہ کرو، قانون سیکھو۔ صرف شکایت نہ کرو، حل تلاش کرو۔ صرف ویڈیو نہ بناؤ، صحیح بات سمجھاؤ۔ صرف سیاست نہ کرو، کردار بھی بناؤ۔
اگر ہزاروں نوجوان اپنے اپنے میدان میں ایمانداری، علم، قانون اور خدمت کو اپنا مقصد بنا لیں تو کسی بھی قوم کی سمت بدل سکتی ہے۔
ایک نئی تحریک کی ضرورت ہے، لیکن پہلے اپنے اندر
شاید پاکستان کو کسی نئی سیاسی جماعت سے زیادہ ایک نئی اخلاقی تحریک کی ضرورت ہے۔
ایسی تحریک جو کسی ایک پارٹی کی ملکیت نہ ہو۔ کسی ایک شخصیت کی ملکیت نہ ہو۔ کسی ایک صوبے کی ملکیت نہ ہو۔ کسی ایک مسلک، زبان یا طبقے کی ملکیت نہ ہو۔
ایسی تحریک جس کا بنیادی نعرہ صرف ایک ہو:
یہ تحریک مسجد میں بھی بات کرے۔ اسکول میں بھی۔ یونیورسٹی میں بھی۔ عدالت میں بھی۔ کاروباری chamber میں بھی۔ میڈیا میں بھی۔ گھر میں بھی۔ سوشل میڈیا پر بھی۔
لیکن سب سے پہلے انسان کے اپنے دل میں۔
اب ذرا آنکھیں بند کرکے ایک نیا پاکستان دیکھیں
ابھی تک ہم نے بیماری دیکھی ہے۔ اب چند لمحوں کے لیے بیماری کو بھول جائیے۔
آئیے ایک ایسا پاکستان دیکھتے ہیں جو ابھی شاید خواب ہے، لیکن ناممکن نہیں۔
ایک ایسا پاکستان جہاں صبح گھر سے نکلنے والا انسان یہ خوف لے کر نہ نکلے کہ آج کون اسے لوٹ لے گا، کون اس سے رشوت مانگے گا، کون اس کا حق روک دے گا، کون اس کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنا دے گا۔
بلکہ وہ یہ یقین لے کر نکلے:
یہ ایک جملہ ہے، مگر اگر کسی ریاست کے ہر شہری کے دل میں یہ یقین پیدا ہوجائے تو ریاست کا پورا چہرہ بدل سکتا ہے۔
سوچیے، جب پاکستان میں واقعی عدل قائم ہوگا
جرم کرنے والا سب سے پہلے یہ سوچے گا کہ میں پکڑا جاؤں گا۔
پولیس والا یہ نہیں سوچے گا کہ اس کیس سے مجھے کیا ملے گا۔ وہ سوچے گا کہ میرے سامنے ایک شہری کا حق ہے۔
وکیل یہ نہیں سوچے گا کہ کسی بھی قیمت پر مقدمہ جیتنا ہے۔ وہ سوچے گا کہ قانون اور انصاف کے دائرے میں اپنے موکل کا حق ادا کرنا ہے۔
جج یہ نہیں دیکھے گا کہ ملزم کتنا طاقتور ہے۔ وہ ثبوت، قانون اور انصاف دیکھے گا۔
سرکاری افسر یہ نہیں دیکھے گا کہ درخواست دینے والا کس کا آدمی ہے۔ وہ دیکھے گا کہ اس کا حق کیا ہے۔
سیاست دان یہ نہیں سمجھے گا کہ ریاست اس کی جاگیر ہے۔ اسے معلوم ہوگا کہ اقتدار ایک امانت ہے۔
اور عام شہری یہ محسوس کرے گا کہ اسے اپنے جائز کام کے لیے سفارش، رشوت یا کسی طاقتور شخصیت کے دروازے پر جانے کی ضرورت نہیں۔
جب جرم کا فائدہ ختم ہوجائے
جرائم صرف اس لیے نہیں بڑھتے کہ مجرم پیدا ہوتے ہیں۔ جرائم اس وقت بھی بڑھتے ہیں جب جرم فائدہ مند اور قانون بے اثر محسوس ہونے لگے۔
اگر چوری کے بعد چور کو یقین ہو کہ پولیس اسے نہیں پکڑے گی، مقدمہ برسوں چلے گا اور آخرکار وہ نکل جائے گا تو جرم کا خطرہ کم محسوس ہوتا ہے۔
لیکن اگر اسے یقین ہو کہ جدید investigation، محفوظ evidence، CCTV، digital records، forensic science اور professional policing کے ذریعے اسے قانون کے سامنے جواب دینا ہوگا تو جرم کی کشش کم ہوجائے گی۔
یہی اصل مقصد ہونا چاہیے:
ریاست کا کام غصہ نکالنا نہیں۔ ریاست کا کام قانون کے ذریعے امن قائم کرنا ہے۔
ایک دن ایسا بھی آسکتا ہے
ایک دن لاہور کی کسی گلی میں ایک عورت اکیلی چل رہی ہو اور اسے اپنے موبائل، زیور یا جان کے بارے میں مسلسل خوف نہ ہو۔
ایک دن کراچی کا دکاندار اپنی دکان بند کرکے گھر جائے اور اسے معلوم ہو کہ پولیس اور قانون اس کے کاروبار کی حفاظت کریں گے۔
ایک دن پشاور کا نوجوان یہ سوچے کہ مجھے اپنا مستقبل بنانے کے لیے لازماً بیرون ملک نہیں جانا۔
ایک دن بلوچستان کا شہری یہ محسوس کرے کہ اسلام آباد میں بیٹھنے والی ریاست بھی اس کے حقوق کو اتنی ہی اہمیت دیتی ہے جتنی کسی بڑے شہر کے شہری کو۔
ایک دن سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کا ہر شہری یہ کہہ سکے:
یہاں سے پاکستان کی اصل ترقی شروع ہوگی
جب انصاف آئے گا تو صرف عدالتیں بہتر نہیں ہوں گی۔
کاروبار بہتر ہوگا۔ سرمایہ کاری بڑھے گی۔ روزگار بڑھے گا۔ تعلیم میں اعتماد بڑھے گا۔ نوجوان ملک میں رہنے کا سوچیں گے۔ بیرون ملک پاکستانی واپس سرمایہ لگانے پر غور کریں گے۔ اداروں پر اعتماد بڑھے گا۔ ٹیکس دینے کا رجحان بڑھے گا۔ ریاست اور شہری کے درمیان فاصلے کم ہوں گے۔
کیونکہ انسان اس ریاست کے لیے قربانی دینا پسند کرتا ہے جسے وہ اپنا محافظ سمجھتا ہے۔
عدل کا مطلب یہ بھی ہے کہ طاقتور کو روک دیا جائے
ہمارے معاشرے میں ایک خطرناک تصور پیدا ہوا ہے:
نہیں۔
طاقت حق کی دلیل نہیں۔
دولت حق کی دلیل نہیں۔
عہدہ حق کی دلیل نہیں۔
وردی حق کی دلیل نہیں۔
شہرت حق کی دلیل نہیں۔
اکثریت بھی ہمیشہ حق کی دلیل نہیں۔
حق، حق ہے۔ خواہ اسے ایک کمزور انسان بیان کرے یا ایک طاقتور حکمران۔
سورۃ النساء، 4:58
یہ آیت صرف مسجد کی دیوار کے لیے نہیں۔
یہ حکمران کے لیے بھی ہے۔ یہ جج کے لیے بھی ہے۔ یہ پولیس افسر کے لیے بھی ہے۔ یہ سرکاری افسر کے لیے بھی ہے۔ یہ ہر اس شخص کے لیے ہے جس کے ہاتھ میں کسی دوسرے انسان کا حق اور اختیار دیا گیا ہے۔
کرسی ایک امانت ہے، ملک ذاتی ملکیت نہیں
اقتدار میں بیٹھنے والے ہر شخص کو ایک دن اپنے دل سے یہ سوال کرنا چاہیے:
کیا میں اسے اپنی حفاظت کے لیے استعمال کررہا ہوں؟
کیا میں اپنے خاندان، دوستوں اور ساتھیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کررہا ہوں؟
کیا میں مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال کررہا ہوں؟
یا میں اسے اس شخص کے لیے استعمال کررہا ہوں جو میرے دفتر تک بھی نہیں پہنچ سکتا؟
اصل حکمرانی کا امتحان یہی ہے۔
خلفائے راشدین ہمیں کیا سکھاتے ہیں؟
اسلامی تاریخ میں حکمرانی کو صرف طاقت سمجھنے کی بجائے ذمہ داری سمجھنے کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی تو ان کی حکمرانی کا تصور یہ نہیں تھا کہ اب کوئی انہیں جواب نہیں دے سکتا۔ بلکہ خلافت ذمہ داری تھی۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ہمیں احتساب کا ایسا تصور ملتا ہے جس میں حکمران خود کو قانون اور اللہ کے سامنے جواب دہ سمجھتا ہے۔
مشہور طور پر ان سے منسوب یہ مفہوم بیان کیا جاتا ہے کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک جانور بھی بھوک سے مر جائے تو عمر سے اس کے بارے میں سوال ہوگا۔
یہ صرف ایک تاریخی جملہ نہیں۔ یہ حکمرانی کی روح ہے:
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حکمرانی اور قاضی کے سامنے ایک عام شہری کی طرح پیش ہونے کی روایات بھی ہمیں یہی سبق دیتی ہیں کہ منصب انسان کو قانون اور انصاف سے بالاتر نہیں کرتا۔
خلفائے راشدین کی اصل عظمت صرف یہ نہیں تھی کہ انہوں نے وسیع علاقے govern کیے۔ ان کی عظمت یہ تھی کہ انہوں نے اقتدار کو امانت سمجھا۔
ہمیں اسی روح کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا
ہمیں ساتویں صدی کو نقل کرکے اکیسویں صدی نہیں بنانی۔
ہمیں اس اصول کو سمجھنا ہے جو ہر زمانے میں زندہ رہ سکتا ہے:
امانت، عدل، شوریٰ، جواب دہی، انسانی عزت، قانون کی بالادستی، کمزور کا تحفظ اور طاقتور کا احتساب۔
جدید technology ان اصولوں کی مدد کرسکتی ہے۔
Artificial Intelligence، Digital Courts، E-Governance، Forensic Science، CCTV، Digital Evidence، Online Complaint Systems اور Transparent Public Records اگر صحیح مقصد کے لیے استعمال ہوں تو ریاستی نظام کو زیادہ شفاف بنایا جاسکتا ہے۔
لیکن technology بھی اس وقت ناکام ہوجاتی ہے جب انسان کی نیت خراب ہو۔
اور پھر ایک دن دنیا پاکستان کو مختلف نظر سے دیکھے گی
آج دنیا کسی ملک کو اس کے پاسپورٹ، economy، security، corruption، human rights، education اور rule of law جیسے پیمانوں سے دیکھتی ہے۔
اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں صرف ranking بہتر کرنے کے لیے کام نہیں کرنا چاہیے۔
ہمیں وہ حقیقت بہتر کرنی چاہیے جس سے ranking خود بہتر ہوجائے۔
ایک دن ایسا پاکستان ہو سکتا ہے جس کے بارے میں دنیا کہے:
پھر پاکستان صرف اپنے لیے نہیں جئے گا۔
وہ دنیا کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے کہ ایک مسلمان ملک اپنی دینی اقدار، جدید علم، قانون، technology، انسانی عزت اور انصاف کو ایک ساتھ لے کر آگے بڑھ سکتا ہے۔
لیکن اس خواب کی ایک قیمت ہے
اور وہ قیمت ہم سب کو دینی ہوگی۔
جھوٹ چھوڑنا ہوگا۔ رشوت چھوڑنا ہوگی۔ سفارش کا ناجائز استعمال چھوڑنا ہوگا۔ جھوٹی گواہی چھوڑنا ہوگی۔ دوسروں کا حق کھانا چھوڑنا ہوگا۔ ٹیکس میں دھوکہ دہی چھوڑنی ہوگی۔ جعلی documents چھوڑنے ہوں گے۔ جعلی degrees چھوڑنی ہوں گی۔ fake news پھیلانا چھوڑنا ہوگا۔ قانون کو اپنے فائدے کے لیے توڑنا چھوڑنا ہوگا۔
اور سب سے بڑھ کر:
توبہ صرف فرد کی نہیں، قوم کی بھی ضرورت ہے
شاید اب وقت آگیا ہے کہ ہم صرف حکمرانوں سے توبہ کا مطالبہ نہ کریں۔
ہم خود بھی اللہ کے سامنے جھکیں۔
ہم کہیں:
یا اللہ! ہم سے غلطیاں ہوئی ہیں۔ ہم نے کہیں ظلم دیکھا اور خاموش رہے۔ کہیں حق جان کر بھی مصلحت اختیار کی۔ کہیں رشوت دی۔ کہیں رشوت لی۔ کہیں جھوٹ بولا۔ کہیں جھوٹ پھیلایا۔ کہیں کسی کمزور کا حق دبایا۔ کہیں طاقتور کے سامنے حق بات کہنے سے ڈر گئے۔
اے اللہ! ہمیں اپنے ملک کو بدلنے سے پہلے اپنے آپ کو بدلنے کی توفیق دے۔
سورۃ الرعد، 13:11
یہی شاید ہماری سب سے بڑی امید ہے۔
پاکستان کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔
اگر ہم نے اپنے اندر تبدیلی شروع کردی تو شاید ریاست بھی بدلنا شروع ہوجائے۔
اور اگر ہم نے اپنی ذمہ داری سے منہ موڑ لیا تو صرف حکمرانوں کو بدلنے سے بھی ہماری کہانی نہیں بدلے گی۔
اب وقت ہے تطہیر کا — مگر قانون کے راستے سے
اگر پاکستان کو واقعی زندہ کرنا ہے تو صرف تقریریں کافی نہیں ہوں گی۔ صرف حکومتیں بدلنے سے بھی کام نہیں چلے گا۔ صرف چہرے بدلنے سے بھی نظام نہیں بدلے گا۔
ایک بیمار جسم کو صرف خوبصورت کپڑے پہنانے سے صحت نہیں ملتی۔ بیماری کی جڑ تلاش کرنا پڑتی ہے، علاج کرنا پڑتا ہے، زہر نکالنا پڑتا ہے اور پھر جسم کو دوبارہ مضبوط بنانا پڑتا ہے۔
ریاست بھی ایک جسم کی مانند ہے۔ اس میں اگر کرپشن، رشوت، جھوٹ، سفارش، جعلی documents، جعلی degrees، ناجائز قبضے، منظم جرائم، سیاسی انتقام، اختیارات کا غلط استعمال اور قانون سے بالاتر ہونے کا تصور سرایت کر جائے تو صرف اوپر سے صفائی کافی نہیں۔
تطہیر کا مطلب انسانوں کو ختم کرنا نہیں، برائی کو ختم کرنا ہے
یہ فرق بہت اہم ہے۔
کسی انسان کو صرف الزام کی بنیاد پر مجرم قرار دینا انصاف نہیں۔ کسی مخالف کو دشمن سمجھ کر اس کا حق چھین لینا انصاف نہیں۔ کسی افسر، سیاست دان، فوجی، جج، وکیل، صحافی یا عام شہری کو صرف اس کے عہدے یا وابستگی کی بنیاد پر سزا دینا انصاف نہیں۔
تطہیر کا مطلب یہ ہے کہ جس نے جرم کیا ہے، اس کے خلاف قانون حرکت کرے۔ جس نے رشوت لی ہے، اس کا احتساب ہو۔ جس نے سرکاری اختیار کا ناجائز استعمال کیا ہے، اس سے جواب طلب کیا جائے۔ جس نے عوام کا مال لوٹا ہے، اس کے معاملے کی شفاف تفتیش ہو۔ جس نے جھوٹا مقدمہ بنایا ہے، اس سے بھی قانون کے مطابق سوال ہو۔
اور اگر کوئی بے گناہ ہو تو ریاست اسے ہر حال میں تحفظ دے۔
احتساب سب کا — بغیر کسی استثنا کے
پاکستان کو سب سے پہلے اس ایک اصول کی ضرورت ہے:
نہ وزیر۔ نہ مشیر۔ نہ جج۔ نہ وکیل۔ نہ پولیس افسر۔ نہ بیوروکریٹ۔ نہ صنعت کار۔ نہ جاگیردار۔ نہ صحافی۔ نہ مذہبی رہنما۔ نہ سیاسی کارکن۔ نہ فوجی افسر۔ نہ عام شہری۔
جس کے خلاف قابلِ اعتماد evidence ہو، اس کا معاملہ قانون کے سامنے آئے۔ اور جس کے خلاف evidence نہ ہو، اسے صرف الزام کی بنیاد پر تباہ نہ کیا جائے۔
یہی حقیقی احتساب ہے۔
رشوت کے خلاف ایک قومی عہد
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ رشوت صرف وہ نہیں جو ایک سرکاری افسر مانگتا ہے۔
رشوت وہ بھی ہے جو کام جلدی کروانے کے لیے ہم خود پیش کرتے ہیں۔
اگر ایک شخص کہتا ہے: "کام نہیں ہوگا جب تک پیسے نہیں دو گے" تو یہ ظلم ہے۔
لیکن اگر ہم کہتے ہیں: "بھائی کچھ لے لو، بس میرا کام پہلے کردو" تو ہم بھی اسی نظام کو طاقت دے رہے ہیں۔
آج سے اگر ہم میں سے لاکھوں لوگ ناجائز رشوت دینے سے انکار کردیں اور قانونی شکایت کا راستہ اختیار کریں تو رشوت کے نظام کی بنیاد کمزور ہوسکتی ہے۔
سفارش اور حق میں فرق سمجھنا ہوگا
ہمارے معاشرے میں سفارش اتنی عام ہوگئی ہے کہ کبھی کبھی ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم کیا کررہے ہیں۔
کسی مظلوم کا جائز حق دلانے کے لیے قانونی مدد کرنا ایک بات ہے۔ کسی نااہل شخص کو صرف تعلقات کی بنیاد پر دوسرے حقدار سے آگے نکال دینا دوسری بات ہے۔
ایک نظام اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب انسان کو اپنا حق لینے کے لیے "اپنا آدمی" تلاش نہ کرنا پڑے۔
اسے صرف اپنا قانونی حق معلوم ہو اور وہ اسے حاصل کرسکے۔
پولیس کی تطہیر — خوف نہیں، اعتماد
پولیس ریاست اور شہری کے درمیان سب سے پہلی حفاظتی دیوار ہے۔
اگر شہری پولیس اسٹیشن جانے سے ڈرے تو ریاست کی ایک بنیادی ذمہ داری کمزور ہوچکی ہے۔
ہمیں ایسی policing چاہیے جہاں FIR درج کروانے کے لیے کسی بااثر شخص کی ضرورت نہ ہو۔ جہاں investigation رشوت سے نہ چلے۔ جہاں evidence محفوظ ہو۔ جہاں crime scene کی حفاظت ہو۔ جہاں forensic investigation کو اہمیت دی جائے۔ جہاں officer کی performance صرف طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ crime solving اور شہریوں کے اعتماد سے بھی ناپی جائے۔
اور پولیس اہلکاروں کو بھی مناسب وسائل، training، equipment، transport، رہائش اور عزت دی جائے۔
ایک بھوکا، بے وسائل اور مسلسل دباؤ میں کام کرنے والا ادارہ بھی اصلاح کا مستحق ہے۔
عدالتوں کی تطہیر — انصاف کی رفتار بھی انصاف ہے
انصاف اگر بہت دیر سے ملے تو مظلوم کی زندگی کا ایک حصہ واپس نہیں آتا۔
برسوں چلنے والے مقدمات، بار بار کی تاریخیں، کمزور investigation، گواہوں کا تحفظ نہ ہونا، case records کی خرابی اور قانونی پیچیدگیاں عام شہری کو تھکا دیتی ہیں۔
ہمیں ایسی justice system چاہیے جو:
- آزاد اور غیر جانب دار ہو۔
- قانون کے مطابق ہو۔
- ثبوت کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔
- بے گناہ کو تحفظ دے۔
- مجرم کو جواب دہ بنائے۔
- غریب کو انصاف تک رسائی دے۔
- جھوٹے مقدمات کی حوصلہ شکنی کرے۔
- غیر ضروری تاخیر کم کرے۔
- اور سب سے بڑھ کر، کسی طاقتور کے دباؤ سے آزاد رہے۔
وہ آیت جو ہمارے عدالتی تصور کا مرکز بن سکتی ہے
سورۃ ص، 38:26
یہ حکم حضرت داؤد علیہ السلام کے واقعے کے ضمن میں آتا ہے۔ لیکن اس میں حکمرانی اور عدل کے لیے ایک بہت بڑی بنیاد موجود ہے:
نہ دولت دیکھ کر۔ نہ عہدہ دیکھ کر۔ نہ طاقت دیکھ کر۔ نہ سیاسی تعلق دیکھ کر۔ نہ ذاتی پسند اور ناپسند دیکھ کر۔
صرف حق۔
میڈیا بھی ریاستی صحت کا آئینہ ہے
آزاد صحافت کا مطلب یہ نہیں کہ صحافی کو جھوٹ بولنے کا لائسنس مل جائے۔
اور ذمہ دار صحافت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ سچ بولنے سے پہلے طاقتور کی اجازت لی جائے۔
ایک صحت مند معاشرے میں journalist کو evidence کے ساتھ سوال پوچھنے کی آزادی ہونی چاہیے، اور journalist کو بھی اپنے الفاظ کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔
جھوٹی خبر کے خلاف قانون ہونا چاہیے، مگر قانون کا استعمال اختلافِ رائے کو خاموش کرنے کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔
criticism اور crime میں فرق ہونا چاہیے۔
disagreement اور defamation میں فرق ہونا چاہیے۔
political opposition اور national security threat کو ہر حال میں ایک سمجھنا بھی درست نہیں۔
ہمیں ایک ایسا نظام چاہیے جس میں سچ بولنے کے لیے بہادری کم اور قانون پر اعتماد زیادہ ہو
یہ کیسی ریاست ہوگی جہاں شہری پہلے یہ سوچے کہ سچ بولنے کے بعد میرے ساتھ کیا ہوگا؟
ایک مضبوط ریاست اپنے شہری سے اندھی وفاداری نہیں مانگتی۔ وہ قانون کی وفاداری مانگتی ہے۔
شہری کو ریاست پر تنقید کرنے کا حق ہو، لیکن دوسروں کی جان، عزت اور حقوق کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہ ہو۔
ریاست کو security کا حق ہو، لیکن شہری کے بنیادی حقوق بھی محفوظ رہیں۔
یہی balance ایک mature society کی پہچان ہے۔
پاک صاف نظام کا پہلا قدم: شفافیت
جس کام کو چھپانا پڑے، وہاں شک پیدا ہوتا ہے۔
اس لیے جہاں ممکن ہو ریاستی معاملات میں transparency بڑھائی جائے۔
سرکاری خریداری، بڑے contracts، public spending، ترقیاتی منصوبے، recruitment، امتحانات، land records اور اہم administrative فیصلوں میں قابلِ اعتماد transparency mechanisms ہونے چاہئیں۔
Digital systems اس کام میں مدد کرسکتے ہیں۔
ہر چیز public کرنا ضروری نہیں، کیونکہ قومی سلامتی اور شہری privacy بھی اہم ہیں۔ لیکن secrecy کو corruption کا پردہ بھی نہیں بننا چاہیے۔
اور یہاں سے ایک نیا سوال پیدا ہوتا ہے
اگر پاکستان واقعی اپنے اندر سے کرپشن صاف کرنا شروع کردے تو کیا ہوگا؟
شاید ابتدا میں بہت تکلیف ہوگی۔
بہت سے مفادات متاثر ہوں گے۔ بہت سے غیر قانونی کاروبار بند ہوں گے۔ بہت سے ناجائز فائدے ختم ہوں گے۔ بہت سے لوگ ناراض ہوں گے۔ کچھ اداروں کو اپنے اندر بھی سخت اصلاح کرنا ہوگی۔
لیکن کیا بیمار جسم کو علاج اس لیے نہیں دیا جاتا کہ دوا کڑوی ہے؟
کیا cancer کا علاج اس لیے روک دیا جاتا ہے کہ treatment مشکل ہے؟
نہیں۔
لیکن یہ تکلیف تب ہی قابلِ قبول ہے جب وہ قانون، انصاف اور انسانی عزت کے دائرے میں ہو۔
ہم انتقام کا پاکستان نہیں، انصاف کا پاکستان چاہتے ہیں
یہ فرق ہمیشہ یاد رکھنا ہوگا۔
انتقام میں انسان دشمن کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔
انصاف میں ریاست جرم کو روکتی ہے، مظلوم کو تحفظ دیتی ہے اور مجرم کو قانون کے مطابق جواب دہ بناتی ہے۔
انتقام ختم نہیں ہوتا؛ وہ ایک نئے انتقام کو جنم دیتا ہے۔
لیکن انصاف ایک ایسا نقطہ بنا سکتا ہے جہاں سلسلہ رک جائے۔
پاکستان کو صفائی کی نہیں، پاکیزہ نظام کی ضرورت ہے
سڑکیں صاف کرنا ضروری ہے۔ شہر صاف کرنا ضروری ہے۔ دریاؤں اور پہاڑوں کو صاف رکھنا ضروری ہے۔
لیکن سب سے بڑی صفائی انسان کے اختیار کی صفائی ہے۔
جب ہاتھ رشوت سے پاک ہوگا۔ زبان جھوٹ سے پاک ہوگی۔ عدالت تعصب سے پاک ہوگی۔ پولیس بدعنوانی سے پاک ہوگی۔ سیاست ذاتی مفاد سے پاک ہوگی۔ صحافت جھوٹ اور خرید و فروخت سے پاک ہوگی۔ تجارت دھوکے سے پاک ہوگی۔ تعلیم جعل سازی سے پاک ہوگی۔
تب شاید ہم کہہ سکیں گے کہ پاکستان صرف باہر سے نہیں، اندر سے بھی صاف ہونا شروع ہوگیا ہے۔
اور پھر وہ دن آئے گا جس کا ہم نے خواب دیکھا ہے
ایک ایسا دن جب ایک غریب آدمی عدالت کے دروازے پر کھڑا ہو اور اسے امیر سے خوف نہ آئے۔
ایک عورت پولیس اسٹیشن جائے اور اسے اپنی عزت اور شکایت کے بارے میں خوف نہ ہو۔
ایک نوجوان سرکاری امتحان دے اور اسے یقین ہو کہ اس کا مستقبل سفارش سے نہیں، قابلیت سے طے ہوگا۔
ایک تاجر اپنا کاروبار کرے اور اسے معلوم ہو کہ اس کا مقابلہ رشوت اور تعلقات سے نہیں بلکہ معیار اور محنت سے ہوگا۔
ایک صحافی سوال پوچھے اور evidence کے ساتھ سچ بیان کرے۔
ایک جج فیصلہ کرے اور اس کے سامنے صرف قانون اور حق ہو۔
ایک پولیس افسر جرم کی investigation کرے اور اسے کسی طاقتور شخص کی اجازت کی ضرورت نہ ہو۔
اور ایک حکمران اپنے دفتر میں بیٹھ کر یہ نہ سوچے: "میں سب سے طاقتور ہوں۔"
بلکہ یہ سوچے:
شاید یہی وہ پاکستان ہے جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دی تھیں۔
پاکستان صرف اندر سے نہیں، اپنی سمت کے بارے میں بھی سوچے
پاکستان کے مسائل کو صرف سیاست دانوں، پولیس، عدالتوں یا عام شہریوں کی غلطیوں تک محدود کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔
ایک ریاست کی زندگی میں ایک اور سوال بہت اہم ہوتا ہے:
یہ سوال کسی ایک حکومت کے خلاف نہیں۔ یہ سوال کسی ایک سیاسی جماعت کے خلاف نہیں۔ یہ سوال کسی ایک ادارے کے خلاف بھی نہیں۔
یہ سوال پاکستان کے مستقبل کے لیے ہے۔
ہمیں آزاد خارجہ پالیسی کیوں چاہیے؟
ایک آزاد ملک کی خارجہ پالیسی اس کے قومی مفاد، آئین، عوام، جغرافیائی حقیقت، معاشی ضروریات اور طویل مدتی سلامتی کے تقاضوں سے تشکیل پانی چاہیے۔
دنیا کے تمام ممالک سے تعلقات رکھنا کوئی کمزوری نہیں۔ امریکہ سے تعلقات ہوں، چین سے ہوں، سعودی عرب سے ہوں، ترکی سے ہوں، ایران سے ہوں، افغانستان سے ہوں، یورپ سے ہوں یا بھارت سمیت اپنے ہمسایوں سے ہوں؛ پاکستان کو ہر ملک کے ساتھ اپنے مفاد کے مطابق تعلقات رکھنے چاہئیں۔
لیکن دوستی اور تابع داری میں فرق ہوتا ہے۔
تعاون اور دباؤ میں فرق ہوتا ہے۔
شراکت داری اور کسی دوسرے کی مرضی پر چلنے میں فرق ہوتا ہے۔
خارجہ پالیسی عوام سے کیوں چھپی رہے؟
قومی سلامتی کے کچھ معاملات یقیناً حساس ہوتے ہیں۔ ہر intelligence operation، ہر military plan اور ہر diplomatic negotiation عوام کے سامنے نہیں رکھی جاسکتی۔
لیکن قومی سلامتی کا مطلب یہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ریاست کے ہر بڑے فیصلے پر سوال پوچھنا ہی ممنوع ہوجائے۔
ایک mature ریاست میں Parliament، elected representatives، constitutional institutions اور مناسب oversight mechanisms کے ذریعے یہ دیکھا جاتا ہے کہ قومی فیصلے آئین اور پاکستان کے مفاد کے مطابق ہیں یا نہیں۔
عوام کو کم از کم اتنا معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے ملک کی بنیادی سمت کیا ہے۔
ہم کسی ادارے کے دشمن نہیں
پاکستان کی فوج نے ملک کے دفاع میں قربانیاں دی ہیں۔ پولیس کے اہلکار شہید ہوئے ہیں۔ عدلیہ کے بہت سے افراد نے مشکل حالات میں کام کیا ہے۔ سرکاری ملازمین میں بھی دیانت دار لوگ موجود ہیں۔ سیاست میں بھی خدمت کرنے والے لوگ گزرے ہیں۔ صحافت میں بھی حق کے لیے آواز اٹھانے والے لوگ موجود رہے ہیں۔
اس لیے اس تحریر کا مقصد کسی پورے ادارے کو برا کہنا نہیں۔
ادارے انسانوں سے بنتے ہیں۔ اور انسان غلطی بھی کرسکتے ہیں۔
اس لیے کوئی بھی ادارہ احترام کا مستحق ہوسکتا ہے، لیکن کوئی ادارہ احتساب سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔
ایک مضبوط ریاست دونوں کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔
اصل خطرہ طاقت نہیں، بے حساب طاقت ہے
طاقت خود بری چیز نہیں۔
فوجی طاقت ملک کی حفاظت کرسکتی ہے۔ پولیس کی طاقت شہری کو مجرم سے بچا سکتی ہے۔ عدالت کی طاقت مظلوم کو حق دلا سکتی ہے۔ حکومت کی طاقت ملک کو ترقی دے سکتی ہے۔ میڈیا کی طاقت عوام کو باخبر کرسکتی ہے۔
لیکن جب طاقت کے ساتھ accountability ختم ہوجائے تو وہی طاقت خطرناک بن سکتی ہے۔
اس لیے ہمیں طاقت ختم نہیں کرنی۔ ہمیں طاقت کو قانون کے اندر رکھنا ہے۔
ریاست کا کوئی حصہ ریاست سے بڑا نہیں ہوسکتا
ریاست ایک جسم کی طرح ہے۔ پارلیمنٹ اس کا ایک حصہ ہے۔ عدلیہ ایک حصہ ہے۔ حکومت ایک حصہ ہے۔ فوج ایک حصہ ہے۔ پولیس ایک حصہ ہے۔ civil administration ایک حصہ ہے۔ عوام اس ریاست کی بنیاد ہیں۔
جب جسم کا کوئی ایک حصہ پورے جسم کو اپنے تابع سمجھنے لگے تو توازن خراب ہوجاتا ہے۔
پاکستان کو ایسا نظام چاہیے جہاں ہر ادارہ اپنے آئینی دائرے میں طاقتور ہو، لیکن دوسرے ادارے کے آئینی دائرے پر قبضہ نہ کرے۔
سورۃ النساء، 4:58
اختیار بھی ایک امانت ہے۔
بندوق کا اختیار ہو یا قلم کا۔ عدالت کا اختیار ہو یا حکومت کا۔ پارلیمنٹ کا اختیار ہو یا administration کا۔
ہر اختیار کے ساتھ امانت اور جواب دہی جڑی ہوئی ہے۔
قومی وسائل بھی امانت ہیں
پاکستان کی زمین، معدنیات، پانی، پہاڑ، جنگلات، ساحل، بندرگاہیں، سرکاری زمینیں، قدرتی وسائل، public companies اور قومی ادارے کسی فرد کی ذاتی ملکیت نہیں۔
یہ آنے والی نسلوں کی امانت ہیں۔
اگر کسی ریاستی ادارے، سرکاری department یا کسی بااثر گروہ کے پاس عوامی وسائل سے متعلق وسیع اختیارات ہوں تو ان اختیارات کے ساتھ transparency، audit، قانون اور public accountability بھی ہونی چاہیے۔
یہ اصول کسی ایک ادارے کے لیے نہیں۔ یہ سب کے لیے ہے۔
قومی زمین کسی فرد کی نہیں؛ قوم کی امانت ہے۔
قومی وسائل کسی طاقتور گروہ کے نہیں؛ آنے والی نسلوں کا حق ہیں۔
پاکستان کو اپنے سوال پوچھنے سے ڈرنا نہیں چاہیے
سوال کرنا بغاوت نہیں۔
سوال کرنا دشمنی نہیں۔
سوال کرنا ملک سے محبت ختم نہیں کرتا۔
اگر کوئی شہری پوچھتا ہے کہ فلاں قومی فیصلہ کیوں کیا گیا؟ فلاں public resource کس طریقے سے استعمال ہوا؟ فلاں قانون کس مقصد کے لیے بنایا گیا؟ فلاں institution کس کے سامنے accountable ہے؟ تو اسے غدار کہہ کر سوال ختم نہیں کیا جاسکتا۔
جواب دینا پڑے گا۔
جہاں جواب security کے باعث public نہیں کیا جاسکتا وہاں بھی constitutional oversight اور قانونی نگرانی کا کوئی مؤثر راستہ ہونا چاہیے۔
اور یہاں ہماری فوج سے بھی ایک محبت بھری درخواست ہے
پاکستان کی فوج اس ملک کا ایک اہم قومی ادارہ ہے۔ اس کے جوان سرحدوں پر کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے جنگوں اور دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دی ہیں۔
اسی لیے عوام کا حق ہے کہ وہ اپنے دفاعی اداروں کو مضبوط، باوقار اور پیشہ ور دیکھیں۔
ایک مضبوط فوج وہ نہیں جس سے ہر شہری خوف کھائے۔
ایک مضبوط فوج وہ ہے جس پر شہری اعتماد کرے۔
ایک مضبوط فوج وہ ہے جو ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرے اور آئینی نظام کی مضبوطی میں اپنا کردار ادا کرے۔
ایک مضبوط فوج وہ ہے جس کے جوان کو یقین ہو کہ اس کی قربانی کسی فرد، خاندان یا گروہ کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ہے۔
اصل دشمن کون ہے؟
شاید ہمیں یہ سوال بھی بدلنا ہوگا۔
ہر سیاسی مخالف دشمن نہیں۔ ہر صحافی دشمن نہیں۔ ہر protest کرنے والا دشمن نہیں۔ ہر سوال پوچھنے والا دشمن نہیں۔ ہر اختلاف کرنے والا دشمن نہیں۔
اصل دشمن وہ چیزیں ہیں جو پاکستان کو اندر سے کھاتی ہیں:
- کرپشن
- رشوت
- جھوٹ
- ناانصافی
- جرائم
- انتقامی سیاست
- اختیار کا ناجائز استعمال
- اداروں کی کمزور accountability
- جعلی تعلیم اور جعلی credentials
- معاشی استحصال
- ناقص governance
- قانون سے بالاتر ہونے کا تصور
اگر ہم ان چیزوں کے خلاف متحد ہوجائیں تو شاید ہمیں ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے کی ضرورت ہی نہ رہے۔
ہمیں کسی بیرونی طاقت کا دشمن بننے کی ضرورت نہیں
امریکہ دشمن ہو یا دوست، چین دوست ہو یا طاقتور، بھارت ہمارا حریف ہو یا کل تعلقات بہتر ہوجائیں، ایران ہمسایہ ہو یا سعودی عرب برادر ملک؛ پاکستان کو جذبات کے بجائے wisdom کے ساتھ اپنی foreign policy بنانی چاہیے۔
کسی ملک سے اندھی دشمنی بھی دانش مندی نہیں۔ کسی ملک سے اندھی وفاداری بھی دانش مندی نہیں۔
قومی مفاد کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اپنے فیصلے سوچ سمجھ کر کرے۔
مگر فیصلہ پاکستان کا ہونا چاہیے۔
ایک خوددار پاکستان کی تصویر
تصور کریں ایک ایسا پاکستان جہاں foreign policy جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ research، diplomacy، economics، national security اور long-term planning سے بنتی ہو۔
جہاں Parliament میں قومی پالیسیوں پر سنجیدہ بحث ہو۔
جہاں diplomats دنیا کے سامنے پاکستان کے مفاد کو دلیل، علم اور وقار کے ساتھ پیش کریں۔
جہاں فوج مضبوط ہو مگر آئینی حدود کے اندر ہو۔
جہاں civilian government مضبوط ہو مگر کرپشن سے پاک ہو۔
جہاں judiciary آزاد ہو مگر جواب دہ بھی ہو۔
جہاں media آزاد ہو مگر ذمہ دار بھی ہو۔
جہاں شہری آزاد ہوں مگر قانون کے پابند بھی ہوں۔
ہمیں پاکستان کو کسی ایک شخص سے نہیں بچانا
یہ بھی ایک بڑی غلطی ہوگی کہ ہم سمجھیں پاکستان کا مسئلہ صرف ایک شخص ہے۔
ایک شخص چلا جائے گا، دوسرا آجائے گا۔ ایک حکومت ختم ہوگی، دوسری بنے گی۔ ایک جماعت آئے گی، دوسری جائے گی۔ ایک طاقتور افسر ریٹائر ہوگا، دوسرا آ جائے گا۔
اگر نظام وہی رہا تو نتیجہ بھی بار بار وہی نکل سکتا ہے۔
ہمیں personalities نہیں، principles کو مضبوط کرنا ہے۔
اور یہی ہماری آخری امید بھی ہے
اگر آج بھی ہم اپنی غلطیوں کو تسلیم کرلیں، اگر ہم توبہ کرلیں، اگر ہم ظلم کے خلاف قانون کے اندر کھڑے ہوجائیں، اگر ہم رشوت سے انکار کریں، اگر ہم جھوٹ پھیلانا چھوڑ دیں، اگر ہم اپنے مخالف کے حق کو بھی حق سمجھیں، اگر ادارے اپنے آئینی دائرے میں واپس آئیں، اگر حکمران اقتدار کو امانت سمجھیں، اگر عدالت عدل کو اپنا مرکز بنائے، اگر پولیس شہری کو اپنا دشمن نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھے، اگر media سچ کو تجارت سے بلند کردے، اور اگر عوام بھی اپنی ذمہ داری قبول کرلیں،
تو پاکستان کے پاس دوبارہ اٹھنے کی طاقت آج بھی موجود ہے۔
پاکستان کو ابھی زندہ ہونا ہے۔
اور شاید اس revival کی پہلی علامت یہ ہوگی کہ ہم ایک دوسرے سے لڑنا کم اور اپنے اندر کی برائیوں سے لڑنا زیادہ شروع کردیں۔
اب سوال حکومت سے نہیں، ہم سے بھی ہے
ہم نے ریاست سے بہت کچھ مانگا۔ انصاف مانگا۔ امن مانگا۔ روزگار مانگا۔ آزادی مانگی۔ عزت مانگی۔ تحفظ مانگا۔ سستی اور معیاری تعلیم مانگی۔ صاف نظام مانگا۔
یہ سب ہمارے جائز مطالبات ہیں۔
لیکن اب ایک سوال ہمیں اپنے آپ سے بھی کرنا ہوگا:
شاید ہمیں آج ہی سے آغاز کرنا ہوگا۔ اپنے گھر سے۔ اپنی دکان سے۔ اپنے دفتر سے۔ اپنی کلاس سے۔ اپنے موبائل سے۔ اپنی زبان سے۔ اور سب سے پہلے اپنے دل سے۔
ایک پاکستانی آج سے کیا کرسکتا ہے؟
شاید ہم میں سے ہر شخص صدر، وزیر، جج، جرنیل یا پولیس افسر نہ بن سکے۔ لیکن ہم اپنے اختیار کے اندر ایک چھوٹی سی ریاست ضرور چلا رہے ہوتے ہیں۔
ایک والد اپنے گھر کا ذمہ دار ہے۔ ایک استاد اپنی کلاس کا۔ ایک دکاندار اپنی دکان کا۔ ایک manager اپنے office کا۔ ایک افسر اپنے department کا۔ ایک journalist اپنے قلم کا۔ ایک نوجوان اپنے digital دنیا کا۔
اگر ہر شخص اپنے چھوٹے دائرے میں عدل قائم کرنا شروع کردے تو بڑے دائرے بھی آہستہ آہستہ بدل سکتے ہیں۔
پہلا عہد: میں رشوت نہیں دوں گا
اگر کوئی جائز قانونی راستہ موجود ہے تو پہلے اسے اختیار کریں۔ اپنی درخواست، شکایت، appeal اور قانونی حقوق کو جانیں۔
جہاں ممکن ہو رشوت دینے سے انکار کریں۔ جہاں قانون اجازت دے وہاں شکایت کے محفوظ اور قانونی راستے استعمال کریں۔
یہ آسان نہیں ہوگا۔ بعض اوقات کام رک سکتا ہے۔ بعض اوقات نقصان بھی ہوسکتا ہے۔
لیکن تبدیلی ہمیشہ آسان راستے سے نہیں آتی۔
دوسرا عہد: میں جھوٹ کو خبر بنا کر نہیں پھیلاؤں گا
آج ہمارے ہاتھ میں وہ طاقت ہے جو پہلے صرف بڑے media houses کے پاس تھی۔
ایک موبائل فون سے ہم چند سیکنڈ میں ہزاروں لوگوں تک کوئی خبر پہنچا سکتے ہیں۔
یہی طاقت نعمت بھی ہے اور امتحان بھی۔
کسی خبر کو share کرنے سے پہلے رکیں۔ source دیکھیں۔ تاریخ دیکھیں۔ مکمل context دیکھیں۔ اگر یقین نہ ہو تو اسے آگے نہ بھیجیں۔
تیسرا عہد: میں اپنے مخالف کے حق کو بھی حق سمجھوں گا
یہ شاید سب سے مشکل عہد ہے۔
ہم اپنے دوست کے لیے انصاف چاہتے ہیں۔ اصل امتحان تب شروع ہوتا ہے جب حق ہمارے مخالف کے ساتھ ہو۔
اگر ہمارا مخالف بے گناہ ہے تو ہم اس کی بے گناہی تسلیم کریں گے۔
اگر ہمارا مخالف ظلم کا شکار ہے تو ہم ظلم کو ظلم کہیں گے۔
اگر ہمارا مخالف غلط ہے تو ہم evidence اور قانون کے ساتھ اختلاف کریں گے۔
سورۃ الانعام، 6:152
اگر ہم اس اصول کو واقعی اپنی زندگی میں لے آئیں تو ہماری سیاست، صحافت، عدالت اور معاشرت سب بدل سکتی ہے۔
چوتھا عہد: میں قانون کو صرف کمزور کے لیے استعمال نہیں ہونے دوں گا
قانون اس وقت قانون نہیں رہتا جب اسے صرف اپنے مخالف کو سزا دینے کے لیے یاد کیا جائے۔
قانون کی اصل خوبصورتی یہ ہے کہ وہ طاقتور کو بھی وہی معیار دیتا ہے جو کمزور کو دیتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک civilized society اور jungle law میں فرق پیدا ہوتا ہے۔
پانچواں عہد: میں اپنے بچوں کو صرف کامیابی نہیں، کردار سکھاؤں گا
ہم اکثر بچوں سے کہتے ہیں: ڈاکٹر بنو۔ انجینئر بنو۔ افسر بنو۔ businessman بنو۔ بڑا آدمی بنو۔
لیکن ہمیں ایک جملہ اور شامل کرنا ہوگا:
ایسا ڈاکٹر جو غریب مریض کو بھی انسان سمجھے۔ ایسا engineer جو ناقص material استعمال کرکے پل نہ گرائے۔ ایسا businessman جو ملاوٹ نہ کرے۔ ایسا lawyer جو جھوٹ کو حق نہ بنائے۔ ایسا officer جو رشوت نہ لے۔ ایسا politician جو عوام کو صرف ووٹ نہ سمجھے۔
کیونکہ اگر ہم صرف قابل لوگ پیدا کریں اور باکردار لوگ نہ پیدا کریں تو ہماری قابلیت بھی ہمارے خلاف استعمال ہوسکتی ہے۔
چھٹا عہد: میں اپنے اختیار کو امانت سمجھوں گا
ہر پاکستانی کے پاس کسی نہ کسی شکل میں اختیار ہے۔
کسی کے پاس پیسہ ہے۔ کسی کے پاس عہدہ ہے۔ کسی کے پاس علم ہے۔ کسی کے پاس قلم ہے۔ کسی کے پاس ووٹ ہے۔ کسی کے پاس camera ہے۔ کسی کے پاس social media audience ہے۔ کسی کے پاس فیصلہ کرنے کی طاقت ہے۔
سوال یہ نہیں کہ میرے پاس اختیار ہے یا نہیں۔
سوال یہ ہے:
ووٹ بھی امانت ہے
پاکستان کے عام شہری کے پاس ایک بہت بڑی طاقت ہے: اس کا ووٹ۔
اسے بیچ دینا صرف ایک سیاسی فیصلہ نہیں۔ یہ اپنے مستقبل کو کسی اور کے ہاتھ میں دے دینا بھی ہوسکتا ہے۔
ووٹ ذات، برادری، زبان، خوف، پیسے یا وقتی فائدے کے بجائے candidate کی دیانت، قابلیت، کردار اور public service کو دیکھ کر استعمال ہونا چاہیے۔
اور اگر ہمارا پسندیدہ امیدوار غلط کام کرے تو اسے بھی غلط کہنا چاہیے۔
نوجوانوں کے نام
پاکستان کی سب سے بڑی امید اس کے نوجوان ہیں۔
آپ صرف complain نہ کریں۔
Constitution پڑھیں۔ قانون سمجھیں۔ اپنی بنیادی شہری آزادیوں اور ذمہ داریوں کو جانیں۔ Cyber law سمجھیں۔ Digital safety سیکھیں۔ Fake news پہچانیں۔ تحقیق کرنا سیکھیں۔ اپنے شہر کے مسائل document کریں۔ اپنے علاقے میں volunteer کریں۔
اگر آپ کو پولیس کا مسئلہ نظر آتا ہے تو قانون پڑھیں۔ اگر education کا مسئلہ نظر آتا ہے تو data جمع کریں۔ اگر environment کا مسئلہ ہے تو local campaign شروع کریں۔ اگر کسی غریب کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو اسے قانونی اور محفوظ طریقے سے مدد حاصل کرنے کا راستہ دکھائیں۔
ہر نوجوان کو politician بننے کی ضرورت نہیں۔ لیکن ہر نوجوان کو responsible citizen بننے کی ضرورت ہے۔
وکیلوں کے نام
آپ کے ہاتھ میں صرف قانون کی کتاب نہیں۔ کسی مظلوم کی امید بھی ہوتی ہے۔
اپنی profession کو صرف income کا ذریعہ نہ بننے دیں۔
کمزور آدمی کو یہ احساس دلائیں کہ عدالت صرف امیر کے لیے نہیں۔
اگر کوئی case جھوٹا ہے تو اسے جھوٹا کہنے کی اخلاقی طاقت بھی چاہیے۔ اگر کوئی حق کمزور کے ساتھ ہے تو اس کے لیے کھڑے ہونے کا حوصلہ بھی چاہیے۔
پولیس کے نام
آپ کی وردی عام کپڑا نہیں۔ اس کے پیچھے ریاست کا اختیار ہے۔
جب ایک مظلوم آپ کے پاس آتا ہے تو وہ صرف ایک application نہیں لاتا۔ وہ اپنا آخری سہارا لے کر آتا ہے۔
اس کی بات سن لینا بھی خدمت ہے۔ اس کی FIR قانونی طور پر درج کرنا بھی خدمت ہے۔ اس کی جان اور عزت کی حفاظت کرنا بھی عبادت کے قریب ایک ذمہ داری ہوسکتی ہے۔
یاد رکھیے:
ججوں کے نام
عدالت کی کرسی پر بیٹھنے والا شخص صرف مقدمہ نہیں دیکھ رہا ہوتا۔ کئی مرتبہ ایک خاندان کا مستقبل اس کے سامنے ہوتا ہے۔
ایک غلط فیصلہ کسی بے گناہ کی زندگی چھین سکتا ہے۔ ایک درست فیصلہ ایک نسل کو انصاف پر یقین دے سکتا ہے۔
قرآن کا حکم سامنے رکھیے:
سورۃ ص، 38:26
یہ صرف ایک خوبصورت عبارت نہیں۔ یہ ایک ذمہ داری ہے۔
حکمرانوں کے نام
اقتدار کا سب سے خطرناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب انسان یہ سمجھنے لگے کہ اب کوئی اسے جواب نہیں دے سکتا۔
تاریخ اس خیال کو بار بار غلط ثابت کرتی رہی ہے۔
حکومتیں آتی ہیں۔ حکومتیں جاتی ہیں۔ نام بدلتے ہیں۔ جماعتیں بدلتی ہیں۔ عہدے بدلتے ہیں۔
لیکن عوام کی دعائیں، آہیں، شکایتیں اور تاریخ کے صفحات باقی رہتے ہیں۔
فوجی قیادت اور تمام طاقتور اداروں کے نام
پاکستان کو آپ کی طاقت کی ضرورت ہے۔ لیکن پاکستان کو آپ کی طاقت کے ساتھ آپ کی آئینی ذمہ داری کی بھی ضرورت ہے۔
ایک مضبوط قومی ادارہ وہ ہوتا ہے جو ملک کو اپنے ساتھ مضبوط کرتا ہے، اپنے اوپر منحصر نہیں۔
عوام چاہتے ہیں کہ ان کے دفاعی ادارے مضبوط ہوں، پیشہ ور ہوں، باوقار ہوں اور پاکستان کے قومی مفاد اور آئینی نظام کے ساتھ کھڑے ہوں۔
اگر کوئی ریاستی اختیار عوام کے سامنے سوال کا سامنا کرنے سے گھبرائے تو اس اختیار کو مزید طاقت نہیں، مزید institutional trust کی ضرورت ہوتی ہے۔
صحافیوں کے نام
آپ کا قلم بندوق سے مختلف طاقت رکھتا ہے۔
بندوق جسم کو زخمی کرسکتی ہے۔ قلم پورے معاشرے کے ذہن کو بدل سکتا ہے۔
اس لیے خبر کو امانت سمجھیں۔ الزام کو خبر نہ بنائیں۔ propaganda کو journalism نہ بنائیں۔ اور طاقت کے خوف سے سچ کو دفن بھی نہ کریں۔
مذہبی رہنماؤں کے نام
قوم کو صرف اختلافات کی زبان نہ دیں۔ اسے کردار کی زبان بھی دیں۔
منبر سے صرف سیاست نہ آئے۔ امانت بھی آئے۔ عدل بھی آئے۔ پڑوسی کا حق بھی آئے۔ یتیم کا حق بھی آئے۔ مزدور کا حق بھی آئے۔ عورت کی عزت بھی آئے۔ کمزور کی حفاظت بھی آئے۔ اور حکمران کی جواب دہی بھی آئے۔
کاروباری طبقے کے نام
معیشت صرف profit کا نام نہیں۔
ملاوٹ سے بچنا بھی معیشت کی اصلاح ہے۔ ناپ تول میں انصاف بھی معیشت کی اصلاح ہے۔ ملازم کی اجرت وقت پر دینا بھی معیشت کی اصلاح ہے۔ customer کو دھوکہ نہ دینا بھی معیشت کی اصلاح ہے۔ tax کے قانونی تقاضے پورے کرنا بھی ذمہ داری ہے۔
حلال کاروبار صرف دکان پر "بسم اللہ" لکھنے سے نہیں بنتا۔ حلال کاروبار کردار سے بنتا ہے۔
اور آخر میں — فٹ پاتھ پر بیٹھے پاکستانی کے نام
شاید آپ کے پاس دولت نہیں۔ شاید آپ کے پاس اختیار نہیں۔ شاید آپ کے پاس کوئی بڑا عہدہ نہیں۔ شاید آپ کی آواز بڑے ایوانوں تک نہ پہنچتی ہو۔
لیکن آپ بھی اس ملک کے برابر کے شہری ہیں۔
آپ کی جان قیمتی ہے۔ آپ کی عزت قیمتی ہے۔ آپ کا حق قیمتی ہے۔ آپ کے بچوں کا مستقبل قیمتی ہے۔
اور شاید اس Final Call کا سب سے بڑا مقصد یہی ہے: پاکستان میں کوئی انسان یہ محسوس نہ کرے کہ وہ اکیلا ہے۔
اگر کسی کے ساتھ ظلم ہو تو دوسرا انسان اس کی آواز بنے۔ اگر کوئی بھوکا ہو تو دوسرا اسے دیکھے۔ اگر کوئی کمزور ہو تو طاقتور اس پر ظلم نہ کرے۔ اگر کوئی حق مانگے تو اسے ذلیل نہ کیا جائے۔
ایک دوسرے کا احساس کریں۔
شاید یہی احساس ایک دن ایک قوم بنا دے۔
اب بھی دروازہ بند نہیں ہوا
شاید اس پوری تحریر کو پڑھتے ہوئے کسی کے دل میں یہ سوال پیدا ہوا ہو: کیا پاکستان واقعی بدل سکتا ہے؟
کیا اتنے سالوں کی خرابی، کرپشن، ناانصافی، سیاسی کشمکش، ادارہ جاتی کمزوری، غربت، بداعتمادی اور مایوسی کے بعد بھی کوئی نئی صبح آسکتی ہے؟
میرا جواب ہے:
جب تک قوم زندہ ہے، امید زندہ ہے۔ جب تک انسان اپنے رب کی طرف پلٹ سکتا ہے، اصلاح کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔
ہمیں صرف دوسروں سے توبہ کا مطالبہ نہیں کرنا
اس Final Call کا سب سے مشکل حصہ یہی ہے۔
ہم ہمیشہ کہتے ہیں: حکمران بدل جائیں۔ پولیس بدل جائے۔ عدالت بدل جائے۔ سیاست دان بدل جائیں۔ فوج بدل جائے۔ bureaucracy بدل جائے۔ media بدل جائے۔
لیکن شاید ہمیں ایک لمحے کے لیے آئینہ اپنے سامنے بھی رکھنا چاہیے۔
ہم نے کبھی سفارش کروائی۔ کبھی ناجائز فائدہ لیا۔ کبھی جھوٹ بول کر کام نکلوایا۔ کبھی غلط خبر آگے بھیجی۔ کبھی کسی کمزور کا حق مارا۔ کبھی رشوت دی۔ کبھی رشوت لے کر خاموش رہے۔ کبھی کسی مظلوم کو یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ "مجھے کیا؟"
اگر ایسا ہوا ہے تو ہمیں دوسروں سے پہلے اپنے آپ کو دیکھنا ہوگا۔
توبہ صرف زبان سے نہیں، عمل سے ہوتی ہے
سورۃ الرعد، 13:11
یہ آیت ہمیں صرف حکومت کو سنانے کے لیے نہیں ملی۔
یہ ہمارے اپنے لیے بھی ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان بدلے تو ہمیں اپنے اندر بھی تبدیلی پیدا کرنا ہوگی۔
رشوت چھوڑنی ہوگی۔ جھوٹ چھوڑنا ہوگا۔ دھوکہ چھوڑنا ہوگا۔ نفرت کم کرنی ہوگی۔ دوسروں کے حق کا احساس پیدا کرنا ہوگا۔
یہ میرے اور آپ کے اپنے دروازے سے شروع ہوتا ہے۔
ایک دوسرے کا احساس کریں
شاید پاکستان کا سب سے بڑا بحران صرف economy یا politics نہیں۔
شاید ہمارا ایک بڑا بحران یہ بھی ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے درد کا احساس کم ہوتا جارہا ہے۔
ایک شخص traffic میں پھنسے دوسرے انسان کو صرف رکاوٹ سمجھتا ہے۔ دکاندار customer کو صرف پیسہ سمجھتا ہے۔ افسر سائل کو صرف ایک file سمجھتا ہے۔ سیاست دان عوام کو صرف vote سمجھتا ہے۔ landlord tenant کو صرف rent سمجھتا ہے۔ طاقتور کمزور کو صرف کمزور سمجھتا ہے۔
ہمیں انسان کو دوبارہ انسان سمجھنا ہوگا۔
یہ تبدیلی کسی قانون سے بھی بڑی تبدیلی ہوسکتی ہے۔
اب ذرا 100 فیصد انصاف والے پاکستان کا تصور کریں
آئیے ایک لمحے کے لیے خواب دیکھتے ہیں۔
فرض کریں پاکستان نے فیصلہ کرلیا کہ اب قانون واقعی سب کے لیے برابر ہوگا۔
کوئی شخص اپنے عہدے، دولت، خاندان، طاقت یا تعلقات کی وجہ سے قانون سے اوپر نہیں ہوگا۔
پھر کیا ہوگا؟
جرائم میں کمی کہاں سے شروع ہوگی؟
جب چور کو معلوم ہوگا کہ پکڑے جانے کے بعد سفارش کام نہیں آئے گی، تو جرم کا فائدہ کم ہوگا۔
جب ڈاکو کو یقین ہوگا کہ police investigation، forensic evidence اور عدالت کا نظام مضبوط ہے، تو جرم کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
جب قاتل کو معلوم ہوگا کہ طاقتور خاندان بھی اسے نہیں بچا سکے گا، تو قانون deterrence پیدا کرے گا۔
جب شہری کو یقین ہوگا کہ اس کی FIR واقعی investigate ہوگی، تو وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بجائے ریاست کی طرف جائے گا۔
رشوت کی مارکیٹ کیسے ختم ہوسکتی ہے؟
تصور کریں ایک سرکاری دفتر میں شہری داخل ہوتا ہے۔
اسے معلوم ہے کہ اس کا کام مقررہ وقت میں ہوگا۔ اسے کسی agent کی ضرورت نہیں۔ کسی سفارش کی ضرورت نہیں۔ کسی لفافے کی ضرورت نہیں۔ کسی سیاسی phone call کی ضرورت نہیں۔
وہ صرف اپنا قانونی حق لے کر واپس آجاتا ہے۔
ایک دن۔ پھر ایک ہفتہ۔ پھر ایک سال۔ پھر ایک نسل۔
آہستہ آہستہ معاشرہ سیکھ جائے گا کہ:
تعلیم کا انقلاب
جب degree خریدی نہ جاسکے گی، exam میں cheating آسان نہ ہوگی، fake credentials قبول نہیں ہوں گے، teacher اپنے فرض کو امانت سمجھے گا، اور admission merit پر ہوگا،
تو پاکستان صرف graduates پیدا نہیں کرے گا۔
پاکستان competent انسان پیدا کرے گا۔
پھر ہمارے نوجوان ملک چھوڑنے کے بجائے ملک بنانے کے مواقع تلاش کرسکتے ہیں۔
معیشت کا نیا چہرہ
جب business کے لیے رشوت نہ دینی پڑے، contract سفارش سے نہ ملے، عدالت میں commercial dispute برسوں نہ لٹکے، property records قابلِ اعتماد ہوں، tax system منصفانہ ہو، اور قانون سب پر یکساں ہو،
تو سرمایہ خوف سے نہیں، اعتماد سے آتا ہے۔
سرمایہ کاری بڑھتی ہے۔ کاروبار بڑھتا ہے۔ روزگار پیدا ہوتا ہے۔ innovation بڑھتی ہے۔ exports بڑھ سکتے ہیں۔
ایک محفوظ پاکستان
تصور کریں ایک رات ایک عورت اپنے گھر کا دروازہ کھولتی ہے اور اسے یقین ہے کہ ریاست اس کی حفاظت کے لیے موجود ہے۔
ایک بچہ اسکول سے واپس آتا ہے اور والدین کو ہر لمحہ اس کے اغوا یا جرم کا خوف نہیں۔
ایک businessman رات کو سفر کرتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ law enforcement واقعی موجود ہے۔
ایک غریب شخص بازار میں چلتا ہے اور اسے اپنی غربت کی وجہ سے قانون کے سامنے کمتر نہیں سمجھا جاتا۔
یہی security ہے۔
صرف بڑی بڑی دیواریں، gates اور guards security نہیں۔
دنیا پاکستان کو کیسے دیکھے گی؟
دنیا اس ملک کا احترام صرف اس لیے نہیں کرے گی کہ اس کے پاس ایٹمی طاقت ہے۔
دنیا اس وقت زیادہ احترام کرے گی جب پاکستان یہ دکھائے گا کہ ایک اسلامی جمہوری ریاست عدل، علم، اخلاق، قانون اور انسانی عزت کے اصولوں پر ترقی کرسکتی ہے۔
پھر پاکستانی passport بھی صرف ایک document نہیں ہوگا۔
اس کے ساتھ ایک reputation جڑی ہوگی:
اسلامی دنیا کے لیے پاکستان کیا مثال بن سکتا ہے؟
پاکستان کی بنیاد کے تصور میں اسلام کا حوالہ محض ایک نعرہ نہیں ہونا چاہیے۔
اسلام ہمیں عدل، امانت، رحم، علم، شوریٰ، حقوق العباد اور جواب دہی کا تصور دیتا ہے۔
اگر پاکستان ان اصولوں کو اپنی ریاستی زندگی میں حقیقی طور پر نافذ کرنے کی کوشش کرے تو شاید وہ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک عملی مثال بن سکے۔
ایسی مثال جہاں مسجدیں بھی ہوں اور modern universities بھی۔ قرآن بھی ہو اور science بھی۔ عبادت بھی ہو اور دیانت دار تجارت بھی۔ دفاع بھی ہو اور انصاف بھی۔ آزادی بھی ہو اور ذمہ داری بھی۔
یہ خواب ناممکن نہیں
دنیا میں بہت سے ممالک نے اپنے مشکل ترین دور سے واپسی کی ہے۔
قومیں تباہی کے بعد دوبارہ اٹھتی رہی ہیں۔ شہر جنگوں کے بعد دوبارہ آباد ہوئے ہیں۔ معیشتیں بحران کے بعد دوبارہ مضبوط ہوئی ہیں۔ ادارے اصلاح کے بعد دوبارہ قابلِ اعتماد بنے ہیں۔
تو پھر پاکستان کیوں نہیں؟
مسئلہ یہ ہے کہ اس صلاحیت کو صحیح سمت، صحیح نظام اور صحیح کردار کی ضرورت ہے۔
یہ Final Call کس کے لیے ہے؟
یہ صرف حکومت کے لیے نہیں۔
یہ صرف opposition کے لیے نہیں۔
یہ صرف establishment کے لیے نہیں۔
یہ صرف judiciary کے لیے نہیں۔
یہ صرف police کے لیے نہیں۔
یہ صرف journalists کے لیے نہیں۔
یہ صرف businessmen کے لیے نہیں۔
یہ صرف علماء کے لیے نہیں۔
یہ ہم سب کے لیے ہے۔
سب کے لیے۔
آخری سوال
اگر ہم نے آج بھی کچھ نہ بدلا تو ہمارے بچوں کے پاکستان کا کیا ہوگا؟
کیا ہم انہیں بھی وہی پاکستان دیں گے جس میں حق لینے کے لیے سفارش چاہیے؟
کیا ہم انہیں بھی وہی پاکستان دیں گے جہاں طاقتور سے سوال کرنا مشکل اور کمزور کو سزا دینا آسان ہو؟
کیا ہم انہیں بھی وہی پاکستان دیں گے جہاں ایک عام آدمی اپنے ہی ملک میں اپنے حق کے لیے دروازے دروازے بھٹکتا رہے؟
یا ہم ان کے لیے ایک بہتر پاکستان چھوڑ سکتے ہیں؟
لیکن شاید اتنا وقت ضرور ہے کہ ہم تبدیلی کا آغاز کرسکیں۔
ایک آخری دعا
اے اللہ!
پاکستان کے مظلوموں کی مدد فرما۔
ظالم کو ظلم سے روکنے کی توفیق دے۔
حکمرانوں کو عدل عطا فرما۔
ججوں کو حق کے مطابق فیصلہ کرنے کی قوت دے۔
پولیس کو امانت اور شجاعت دے۔
فوج کو وطن کی حفاظت اور آئینی ذمہ داری کی توفیق دے۔
وکیلوں کو حق کا ساتھ دینے کی توفیق دے۔
صحافیوں کو سچ اور ذمہ داری عطا فرما۔
تاجروں کو دیانت دے۔
استادوں کو امانت دے۔
نوجوانوں کو علم، کردار اور مقصد عطا فرما۔
اور ہم سب کو اپنے اپنے ظلم، گناہ اور غلطی کو پہچاننے کی توفیق دے۔
اے اللہ!
اگر ہم نے ایک دوسرے کا حق مارا ہے تو ہمیں توبہ کی توفیق دے۔ اگر ہم نے کسی پر ظلم کیا ہے تو ہمیں اس کا ازالہ کرنے کی ہمت دے۔ اگر ہم ظلم دیکھ کر خاموش رہے تو ہمیں آئندہ حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ دے۔
سورۃ النحل، 16:90
یہ اختتام نہیں — آغاز ہے
اگر یہ تحریر پڑھ کر صرف غصہ آیا اور پھر ہم اپنے معمول پر واپس چلے گئے تو یہ تحریر ناکام ہوگئی۔
اگر اس نے ہمیں کسی دوسرے کو برا کہنے کے بجائے اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کیا تو یہ تحریر کامیاب ہوئی۔
اگر کسی نوجوان نے Constitution پڑھنا شروع کیا تو یہ تحریر کامیاب ہوئی۔
اگر کسی نے رشوت دینے سے انکار کیا تو یہ تحریر کامیاب ہوئی۔
اگر کسی پولیس افسر نے ایک مظلوم کی FIR عزت سے درج کی تو یہ تحریر کامیاب ہوئی۔
اگر کسی وکیل نے ایک کمزور انسان کا حق دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا تو یہ تحریر کامیاب ہوئی۔
اگر کسی journalist نے خبر publish کرنے سے پہلے تحقیق کی تو یہ تحریر کامیاب ہوئی۔
اگر کسی والد نے اپنے بچے کو کہا: "بیٹا، بڑا افسر بننے سے پہلے بڑا انسان بننا" تو یہ تحریر کامیاب ہوئی۔
اور اگر پاکستان کے کسی طاقتور دفتر میں بیٹھے ہوئے کسی شخص نے ایک لمحے کے لیے اپنے دل میں یہ سوال کیا:
تو شاید یہ Final Call اپنا مقصد حاصل کرچکی ہے۔
پاکستان ابھی زندہ ہے
ہم مایوس نہیں ہوں گے۔
ہم نفرت نہیں پھیلائیں گے۔
ہم قانون ہاتھ میں نہیں لیں گے۔
ہم ظلم کو ظلم کہیں گے۔
ہم اپنے حق کے لیے قانونی راستہ اختیار کریں گے۔
ہم اپنے اندر سے تبدیلی شروع کریں گے۔
ہم اپنے بچوں کو کردار دیں گے۔
ہم اپنے اداروں سے آئینی جواب دہی مانگیں گے۔
ہم اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے حق کا احترام کریں گے۔
اور ہم اس خواب کو زندہ رکھیں گے کہ ایک دن پاکستان ایسا ملک بنے جہاں انسان کو انصاف کے لیے طاقتور آدمی تلاش نہ کرنا پڑے۔
جہاں قانون، قانون ہونے کی وجہ سے سب پر لاگو ہو۔
جہاں ریاست، اپنے شہری سے خوف نہ مانگے بلکہ اس کا اعتماد حاصل کرے۔
جہاں پاکستان کا نام دنیا میں ظلم سے نہیں، عدل سے پہچانا جائے۔
یہی خواب ہے۔
یہی امید ہے۔
یہی دعا ہے۔
اور شاید یہی ہماری آخری پکار بھی ہے۔
پاکستان — جاگنے کا وقت ابھی ہے
اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔
اس سے پہلے کہ ہماری آنے والی نسلیں ہم سے سوال کریں کہ جب سب کچھ بگڑ رہا تھا تو آپ خاموش کیوں رہے؟
اس سے پہلے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف ایک ملک کا نام دے کر جائیں، ایک بہتر ملک نہ دے سکیں۔
آج فیصلہ کرنا ہوگا۔
کرپشن کے خلاف۔
ناانصافی کے خلاف۔
جھوٹ کے خلاف۔
بے حسی کے خلاف۔
اور اپنے اندر کی برائی کے خلاف۔
عدل کے لیے۔
امانت کے لیے۔
آزادی کے لیے۔
قانون کے لیے۔
انسان کی عزت کے لیے۔
اور پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے۔
اب اس خواب کو عمل بنانا ہوگا
خواب دیکھنا پہلا قدم ہے۔ لیکن خواب کو حقیقت بنانا اس کے بعد آتا ہے۔
اگر ہم ایک بہتر پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ کوئی ایک عظیم شخصیت آئے گی، سب کچھ ٹھیک کرے گی اور ہم صرف تماشائی بنے رہیں گے۔
قومیں صرف حکمرانوں سے نہیں بنتیں۔ قومیں کروڑوں انسانوں کے روزانہ کے فیصلوں سے بنتی ہیں۔
لیکن ہر دن پاکستان کو بدل سکتا ہے۔
ایک گھر سے آغاز کریں
اپنے گھر میں بچوں کو سکھائیں کہ جھوٹ بول کر فائدہ حاصل کرنا کامیابی نہیں۔
انہیں بتائیں کہ کسی کمزور کا حق مارنا ذہانت نہیں۔
انہیں سمجھائیں کہ cheating سے حاصل کی ہوئی degree انسان کو تعلیم یافتہ نہیں بناتی۔
انہیں یہ بھی سکھائیں کہ صفائی صرف اپنے گھر کی نہیں، اپنے محلے اور اپنے کردار کی بھی ہوتی ہے۔
اور سب سے اہم:
ایک محلے سے آغاز کریں
ہر محلہ اپنی چھوٹی سی اصلاحی مجلس بنا سکتا ہے۔
چند لوگ مل کر اپنے علاقے کے مسائل کی فہرست بنائیں: street crime، صفائی، پانی، school، traffic، street lights، illegal dumping، بچوں کی safety، خواتین کی safety، اور دیگر مقامی مسائل۔
پھر جذباتی لڑائی کے بجائے متعلقہ قانونی ادارے کو written complaint دیں، follow-up کریں، record محفوظ رکھیں اور مسئلہ حل ہونے تک پرامن اور قانونی طریقے سے کوشش جاری رکھیں۔
یہی civic responsibility ہے۔
ایک نوجوان سے آغاز کریں
ایک نوجوان Constitution پڑھ سکتا ہے۔
دوسرا قانون کے بنیادی اصول سیکھ سکتا ہے۔
تیسرا اپنے شہر کے public data کو سمجھ سکتا ہے۔
چوتھا fake news کے خلاف awareness campaign شروع کرسکتا ہے۔
پانچواں اپنے علاقے کے کسی تعلیمی یا سماجی مسئلے پر documentary بنا سکتا ہے۔
چھٹا cyber security سیکھ کر لوگوں کو online fraud سے بچانے میں مدد کرسکتا ہے۔
ساتواں law پڑھ کر لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق کے بارے میں educate کرسکتا ہے۔
اسے اپنے شعبے میں excellence اور character پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
Social Media کو نفرت نہیں، شعور کا ذریعہ بنائیں
آج ایک عام پاکستانی کے ہاتھ میں camera بھی ہے، microphone بھی اور publishing platform بھی۔
اسے صرف entertainment کے لیے استعمال کرنا ضروری نہیں۔
ایک مختصر video میں ایک آئینی حق سمجھایا جاسکتا ہے۔
ایک Reel میں رشوت کے نقصان کی مثال دی جاسکتی ہے۔
ایک documentary میں کسی شہر کا حقیقی مسئلہ دکھایا جاسکتا ہے۔
ایک interview میں honest police officer، teacher، lawyer، doctor یا civil servant کی اچھی مثال سامنے لائی جاسکتی ہے۔
ایک podcast میں خلفائے راشدین کے عدل کے واقعات سے modern governance کے اصول سمجھائے جاسکتے ہیں۔
ہر اچھی خبر بھی سامنے لائیں
اگر ہم صرف برائی دکھاتے رہیں گے تو قوم مایوس ہوجائے گی۔
پاکستان میں اچھے لوگ بھی ہیں۔
ایماندار پولیس اہلکار بھی ہیں۔ دیانت دار وکیل بھی ہیں۔ محنتی teachers بھی ہیں۔ قابل doctors بھی ہیں۔ honest businessmen بھی ہیں۔ ذمہ دار journalists بھی ہیں۔ محنتی civil servants بھی ہیں۔ بہادر soldiers بھی ہیں۔ اور ایسے عام شہری بھی ہیں جو خاموشی سے دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔
ہمیں ان لوگوں کو بھی سامنے لانا ہوگا۔
کیونکہ پاکستان صرف برائیوں کا نام نہیں
یہ ملک صرف کرپشن نہیں۔
یہ ملک صرف سیاست نہیں۔
یہ ملک صرف جرائم نہیں۔
یہ ملک صرف غربت نہیں۔
پاکستان میں دریاؤں کا پانی بھی ہے۔ پہاڑوں کی بلندی بھی ہے۔ سمندر بھی ہے۔ زرخیز زمین بھی ہے۔ معدنی وسائل بھی ہیں۔ نوجوان آبادی بھی ہے۔ ذہین دماغ بھی ہیں۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پاکستانی بھی ہیں۔ علم بھی ہے۔ ایمان بھی ہے۔ تہذیب بھی ہے۔ تاریخ بھی ہے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس کچھ نہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے اسے منصفانہ، دیانت دار اور مؤثر نظام میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستانی جہاں بھی ہوں، پاکستان ساتھ رکھیں
جو پاکستانی بیرون ملک رہتے ہیں وہ بھی اس خواب کا حصہ ہیں۔
وہ اپنے ملک کی صرف برائیاں بیان نہ کریں۔ وہ اپنے ملک کے لیے علم، سرمایہ، technology، experience اور international connections بھی واپس لاسکتے ہیں۔
ایک پاکستانی doctor دنیا میں کامیاب ہے تو وہ پاکستان کے کسی نوجوان کو mentor کرسکتا ہے۔
ایک engineer knowledge share کرسکتا ہے۔
ایک businessman ethical تجارت کا model بنا سکتا ہے۔
ایک technology expert پاکستانی نوجوانوں کو نئی skills سکھا سکتا ہے۔
اور ریاست کو بھی اپنا حصہ ادا کرنا ہوگا
یہ ذمہ داری صرف عوام پر ڈال دینا بھی ناانصافی ہوگی۔
شہری اپنی اصلاح کریں، لیکن ریاست بھی اپنے اداروں کو درست کرے۔
قانون واضح ہو۔
قانون نافذ بھی ہو۔
پولیس قابلِ اعتماد ہو۔
عدالت آزاد اور مؤثر ہو۔
سرکاری ادارے جواب دہ ہوں۔
public money کی نگرانی ہو۔
تعلیم merit پر ہو۔
media ذمہ دار اور آزاد ہو۔
اور ریاستی طاقت آئینی حدود کے اندر رہے۔
عوام اور ریاست دونوں اپنی ذمہ داری پوری کریں تو معاشرہ مضبوط ہوتا ہے۔
ہمیں ایک نئی قومی زبان بنانی ہوگی
وہ زبان جو ہر وقت کہتی ہے: "تم غدار ہو، تم دشمن ہو، تم ہمارے خلاف ہو" قوم کو تقسیم کرتی ہے۔
ہمیں ایسی زبان چاہیے جو کہے:
"ہم سیاسی مخالف ہوسکتے ہیں، لیکن ایک دوسرے کو انسان سمجھیں گے۔"
"ہم اپنے اداروں پر تنقید کرسکتے ہیں، لیکن ملک کی سلامتی اور قانون کا احترام کریں گے۔"
"ہم اپنے عقیدے سے محبت کرتے ہیں، لیکن کسی پر ظلم کو دین کا نام نہیں دیں گے۔"
"ہم اپنے حق کے لیے کھڑے ہوں گے، لیکن قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے۔"
یہی حقیقی تبدیلی کا راستہ ہے
تبدیلی کا مطلب chaos نہیں۔
تبدیلی کا مطلب burning، killing، revenge یا lawlessness نہیں۔
تبدیلی کا مطلب ہے:
- عدل
- قانون
- علم
- دیانت
- شوریٰ
- جوابدہی
- شفافیت
- انسانی عزت
- رحمت
- اور ذمہ دار آزادی
اگر یہ تحریر ایک ویڈیو بن جائے
شاید ایک دن کوئی نوجوان اس تحریر کا ایک حصہ پڑھے اور camera کے سامنے کھڑا ہوجائے۔
شاید کوئی filmmaker اس میں ایک documentary دیکھے۔
شاید کوئی writer اس سے ایک drama لکھے۔
شاید کوئی lawyer اسے legal awareness campaign میں تبدیل کرے۔
شاید کوئی teacher اسے classroom discussion بنائے۔
شاید کوئی journalist اس کے سوالات پر تحقیق شروع کرے۔
شاید کوئی businessman اپنے office میں corruption کے خلاف policy بنائے۔
شاید کوئی police officer اسے پڑھ کر سوچے: "میں آج ایک مظلوم کے ساتھ بہتر سلوک کروں گا۔"
شاید کوئی judge اپنے سامنے آنے والے کمزور انسان کو پہلے سے زیادہ توجہ سے سنے۔
شاید کسی طاقتور شخص کے دل میں بھی ایک سوال پیدا ہو۔
ایک تحریک، مگر نفرت کے بغیر
اگر کبھی اس تحریر سے کوئی campaign پیدا ہو تو اس کی بنیاد ایک بات پر ہونی چاہیے:
"عدل، ظلم نہیں۔"
"قانون، ہجوم نہیں۔"
"دلیل، نفرت نہیں۔"
"تعمیر، تباہی نہیں۔"
"پاکستان، کسی ایک گروہ سے بڑا ہے۔"
ہمیں اپنے بعد آنے والوں کے لیے جواب دینا ہوگا
شاید ہم سب نے اپنے والدین سے ایک پاکستان حاصل کیا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم اپنی اولاد کو کون سا پاکستان دیں گے؟
ایسا پاکستان جہاں وہ ڈریں؟
یا ایسا پاکستان جہاں وہ خواب دیکھ سکیں؟
ایسا پاکستان جہاں انہیں ہر کام کے لیے سفارش چاہیے؟
یا ایسا پاکستان جہاں merit کافی ہو؟
ایسا پاکستان جہاں قانون صرف کمزور کے لیے ہو؟
یا ایسا پاکستان جہاں طاقتور بھی قانون کے سامنے کھڑا ہو؟
فیصلہ شاید آج ہمارے ہاتھ میں ہے۔
Final Call
پاکستان کے نام یہ آخری پکار مایوسی کی پکار نہیں۔
یہ زندگی کی پکار ہے۔
یہ شکست کی پکار نہیں۔
یہ واپسی کی پکار ہے۔
یہ نفرت کی پکار نہیں۔
یہ عدل کی پکار ہے۔
یہ کسی ایک جماعت، ادارے، شخص یا طبقے کے خلاف پکار نہیں۔
یہ پاکستان کے ضمیر کو جگانے کی پکار ہے۔
سورۃ النساء، 4:135
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک مسلمان کو اپنے دل سے پوچھنا چاہیے:
جب میرے حق میں فیصلہ ہو تو؟
اور جب میرے مخالف کے حق میں ہو تو؟
جب طاقت میرے ہاتھ میں ہو تو؟
اور جب میں کمزور ہوں تو؟
اگر ہمارا جواب دونوں حالتوں میں ایک ہی ہو:
تو شاید پاکستان کی حقیقی تبدیلی وہیں سے شروع ہوجائے گی۔
اے پاکستان! ابھی دیر نہیں ہوئی
ابھی بھی تمہارے پاس نوجوان ہیں۔
ابھی بھی تمہارے پاس علم ہے۔
ابھی بھی تمہارے پاس وسائل ہیں۔
ابھی بھی تمہارے پاس ایمان رکھنے والے دل ہیں۔
ابھی بھی تمہارے پاس محنت کرنے والے ہاتھ ہیں۔
ابھی بھی تمہارے پاس سچ بولنے والی زبانیں ہیں۔
ابھی بھی تمہارے پاس اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ ہے۔
اس لیے یہ "The End" نہیں۔
یہ شاید ایک نئے باب کا پہلا صفحہ ہے۔
پاکستان کو صاف کرنا ہے۔
پاکستان کو منصفانہ بنانا ہے۔
پاکستان کو محفوظ بنانا ہے۔
پاکستان کو تعلیم، علم اور کردار میں آگے لے جانا ہے۔
پاکستان کو دنیا کے لیے ایک مثال بنانا ہے۔
اور اگر ہم واقعی یہ چاہتے ہیں تو ہمیں آج سے شروع کرنا ہوگا۔
میرے گھر سے۔
آپ کے گھر سے۔
ہمارے محلے سے۔
ہمارے ادارے سے۔
ہماری عدالت سے۔
ہماری پولیس سے۔
ہماری Parliament سے۔
ہماری leadership سے۔
اور سب سے پہلے ہمارے اپنے دل سے۔
آمین۔
آخری بات — پاکستان ہم سب کا ہے
اس تحریر کا مقصد کسی ایک شخص کو مجرم قرار دینا نہیں۔ کسی ایک جماعت کو حق پر ثابت کرنا نہیں۔ کسی ایک ادارے کو نشانہ بنانا نہیں۔ اور نہ ہی کسی پاکستانی کے دل میں اپنے ملک کے خلاف نفرت پیدا کرنا ہے۔
اس کا مقصد صرف ایک سوال اٹھانا ہے:
میرا یقین ہے کہ بنا سکتے ہیں۔
لیکن اس کے لیے ہمیں صرف حکومتیں تبدیل نہیں کرنی ہوں گی۔ ہمیں اپنے رویے بھی تبدیل کرنے ہوں گے۔
ہمیں کس پاکستان کی ضرورت ہے؟
ہمیں ایسا پاکستان نہیں چاہیے جہاں صرف طاقتور محفوظ ہو۔
ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں کمزور بھی محفوظ ہو۔
ایسا پاکستان نہیں جہاں قانون کتابوں میں موجود ہو۔
ایسا پاکستان چاہیے جہاں قانون زندگی میں نظر آئے۔
ایسا پاکستان نہیں جہاں انصاف خریدنا پڑے۔
ایسا پاکستان چاہیے جہاں انصاف حق ہونے کی وجہ سے ملے۔
ایسا پاکستان نہیں جہاں سرکاری کام کے لیے سفارش ضروری ہو۔
ایسا پاکستان چاہیے جہاں شہری کا قانونی حق کافی ہو۔
ایسا پاکستان نہیں جہاں اختلاف دشمنی بن جائے۔
ایسا پاکستان چاہیے جہاں اختلاف کے باوجود انسان کی عزت محفوظ رہے۔
یہ خواب صرف سیاست کا نہیں
یہ خواب ایک بہتر معاشرے کا ہے۔
جہاں والد اپنے بچے کو دیانت سکھائے۔
استاد علم کو امانت سمجھے۔
ڈاکٹر مریض کو انسان سمجھے۔
تاجر customer کو دھوکہ نہ دے۔
پولیس اہلکار مظلوم کی بات سنے۔
وکیل حق کا ساتھ دے۔
جج انصاف کے سامنے کسی طاقت کو نہ دیکھے۔
صحافی خبر کو امانت سمجھے۔
سیاست دان اقتدار کو خدمت سمجھے۔
اور طاقتور انسان کمزور کے حق کا محافظ بنے۔
ایک دن ایسا بھی آسکتا ہے
تصور کریں کہ ایک عام پاکستانی police station میں داخل ہو اور اسے خوف نہ ہو۔
وہ عدالت جائے اور اسے یقین ہو کہ اس کا مقدمہ اس کی دولت نہیں بلکہ اس کے حق کی بنیاد پر دیکھا جائے گا۔
وہ سرکاری دفتر جائے اور اسے معلوم ہو کہ کسی سفارش یا لفافے کے بغیر اس کا کام ہوگا۔
وہ اپنا کاروبار شروع کرے اور اسے معلوم ہو کہ کامیابی کا راستہ تعلقات نہیں بلکہ محنت، merit اور قانون ہے۔
وہ اپنے بچے کو school بھیجے اور اسے معلوم ہو کہ اس بچے کا مستقبل صرف سفارش کرنے والے خاندانوں کے بچوں کے لیے reserved نہیں۔
وہ رات کو گھر سے نکلے اور اسے معلوم ہو کہ ریاست اس کی حفاظت کے لیے موجود ہے۔
وہ social media پر اپنی جائز رائے دے اور اسے معلوم ہو کہ اختلاف کا جواب دلیل اور قانون سے دیا جائے گا، خوف سے نہیں۔
اور سب سے بڑھ کر:
یہی پاکستان ہمارا خواب ہونا چاہیے
ایک ایسا پاکستان جو صرف اپنے شہریوں کے لیے محفوظ نہ ہو بلکہ دنیا کے سامنے بھی عدل، علم، اخلاق اور انسانیت کی مثال بنے۔
ایک ایسا پاکستان جہاں اسلام صرف تقریروں اور نعروں میں نہیں بلکہ معاملات، تجارت، عدالت، حکومت، تعلیم اور معاشرت میں بھی نظر آئے۔
ایک ایسا پاکستان جہاں قرآن کی آیات صرف عدالتوں کے logos پر نہ لکھی ہوں بلکہ ان کے معنی فیصلوں اور کردار میں بھی نظر آئیں۔
سورۃ ص، 38:26
اور:
سورۃ المائدہ، 5:8
اگر یہ الفاظ ہماری ریاستی زندگی کا حصہ بن جائیں تو شاید ہمیں دنیا کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہی نہ پڑے کہ پاکستان کیا بننا چاہتا ہے۔
دنیا خود دیکھ لے گی۔
ہماری اصل جنگ
ہماری اصل جنگ کسی قوم کے خلاف نہیں۔
کسی مذہب کے خلاف نہیں۔
کسی زبان کے خلاف نہیں۔
کسی صوبے کے خلاف نہیں۔
کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں۔
ہماری اصل جنگ ظلم، جہالت، کرپشن، جھوٹ، ناانصافی، بے حسی اور بدکرداری کے خلاف ہے۔
برائی کو دشمن بنائیں۔
اور اگر کبھی ہمیں دوبارہ گرنے کا خوف ہو
تو ہمیں اپنے Constitution، اپنے قانون، اپنے ضمیر اور اپنے رب کے احکام کی طرف واپس دیکھنا ہوگا۔
طاقت عارضی ہے۔
عہدہ عارضی ہے۔
دولت عارضی ہے۔
شہرت عارضی ہے۔
حکومتیں عارضی ہیں۔
لیکن انسان کے اعمال کا حساب باقی رہتا ہے۔
اسی لیے اقتدار میں بیٹھے انسان کو سب سے زیادہ خوف اس دن کا ہونا چاہیے جب کوئی اس کے سامنے سوال نہ کرسکے، لیکن اللہ کے سامنے اسے جواب دینا ہو۔
پاکستان کے لیے ہمارا عہد
ہم اپنے ملک سے مایوس نہیں ہوں گے۔
ہم ظلم کو معمول نہیں سمجھیں گے۔
ہم رشوت کو کامیابی نہیں سمجھیں گے۔
ہم جھوٹ کو journalism نہیں سمجھیں گے۔
ہم سفارش کو merit نہیں سمجھیں گے۔
ہم طاقت کو حق نہیں سمجھیں گے۔
ہم اختلاف کو غداری نہیں سمجھیں گے۔
ہم قانون کو صرف اپنے مخالف کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔
ہم اپنے بچوں کو صرف career نہیں، character بھی دیں گے۔
ہم جہاں تک ہمارے اختیار میں ہوگا وہاں انصاف قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔
ایک آخری پکار
پاکستان!
تم ناکام قوم نہیں ہو۔
تم ایک زخمی قوم ہو۔
تمہیں نفرت نہیں، علاج چاہیے۔
تمہیں انتقام نہیں، انصاف چاہیے۔
تمہیں خوف نہیں، قانون چاہیے۔
تمہیں خاموشی نہیں، ذمہ دار آواز چاہیے۔
تمہیں صرف حکمران نہیں، باکردار قیادت چاہیے۔
اور سب سے بڑھ کر:
یہ Final Call کسی انجام کا اعلان نہیں۔
یہ ایک آغاز کی دعوت ہے۔
شاید بہت کچھ ٹوٹ چکا ہے۔
لیکن جو قوم اپنے ٹوٹے ہوئے حصوں کو پہچان لے، وہ انہیں دوبارہ جوڑ بھی سکتی ہے۔
اگر ہم نے آج سے آغاز کیا تو آنے والی نسلیں شاید ایک دن ہمیں معاف کردیں کہ ہم نے انہیں ایک مشکل پاکستان ورثے میں دیا تھا، لیکن اسے بہتر بنانے کی کوشش بھی کی۔
اور شاید وہ دن آئے جب ایک پاکستانی دنیا کے کسی بھی ملک میں کھڑا ہو کر فخر سے کہے:
اور سامنے والا جواب دے:
وہ ملک جہاں عدل، علم، امانت اور انسانیت کی مثال قائم ہوئی؟
آمین۔
یا رب العالمین، ہمیں اس خواب کو حقیقت بنانے والا بنا۔
مصنف کے بارے میں
یہ تحریر کسی سیاسی جماعت، سیاسی عہدے یا کسی ادارے کی نمائندگی نہیں کرتی۔ اس کے مصنف سجاد علی ایک پاکستانی شہری ہیں جو ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ اور آن لائن کاروبار سے وابستہ ہیں اور اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ پاکستان میں رہتے ہوئے معاشرے، ریاستی نظام اور عام پاکستانی کی زندگی کا مشاہدہ کرتے رہے ہیں۔
اس تحریر کے پیچھے کسی سیاسی مقصد، ذاتی مفاد یا کسی جماعت کی حمایت کا ارادہ نہیں۔ یہ ایک ایسے پاکستانی کے دل کی آواز ہے جس نے اپنے اردگرد بہت کچھ دیکھا، کچھ خود برداشت کیا، بہت سے لوگوں کی مشکلات سنیں اور یہ محسوس کیا کہ اپنے ملک کے بارے میں خاموش رہنے کے بجائے کم از کم ایک مرتبہ اپنے احساسات اور خدشات کو الفاظ میں بیان کرنا چاہیے۔
مصنف نہ سیاست دان ہیں، نہ سیاسی کارکن اور نہ کسی تحریک کے رہنما۔ وہ صرف یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان سے محبت کا مطلب صرف اس کے پرچم، زمین اور نام سے محبت کرنا نہیں بلکہ اس ملک میں رہنے والے انسانوں کے حقوق، عزت، جان، مال اور مستقبل کی فکر کرنا بھی ہے۔
اسی احساس کے ساتھ یہ تحریر لکھی گئی ہے۔ اس میں جہاں سخت سوالات ہیں وہاں مقصد نفرت نہیں بلکہ اصلاح ہے، جہاں تنقید ہے وہاں مقصد انتقام نہیں بلکہ جواب دہی ہے، اور جہاں پاکستان کے حالات پر دکھ ہے وہاں اسی دکھ کے اندر ایک بہتر، محفوظ، منصفانہ اور باکردار پاکستان کا خواب بھی موجود ہے۔
شاید اس تحریر کا سب سے بڑا سوال دوسروں سے زیادہ خود مصنف سے بھی ہے: کیا ہم اپنے ملک کو بدلنے کی خواہش رکھنے کے ساتھ اپنے اندر بھی اتنی تبدیلی لانے کے لیے تیار ہیں؟
کیونکہ حقوق العباد صرف دوسروں سے ان کے حقوق مانگنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے ذمہ آنے والے حقوق ادا کرنے کا نام بھی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ریاست ہمارے ساتھ انصاف کرے تو ہمیں بھی اپنی زندگی میں انصاف، دیانت، امانت، رحم اور احساس کو جگہ دینا ہوگی۔
یہ تحریر اسی امید کے ساتھ لکھی گئی ہے کہ شاید اسے پڑھنے والا ہر پاکستانی ایک لمحے کے لیے اپنے آپ سے پوچھے: میں پاکستان کے لیے کیا کرسکتا ہوں؟
شاید جواب بہت بڑا نہ ہو۔ شاید صرف اتنا ہو کہ ہم ایک جھوٹ نہ بولیں، ایک رشوت نہ دیں، ایک حق نہ ماریں، ایک مظلوم کو اکیلا نہ چھوڑیں، ایک غلط خبر آگے نہ پھیلائیں، اپنے بچوں کو کردار سکھائیں اور جہاں ہمارے اختیار میں ہو وہاں انصاف کے ساتھ کھڑے ہوں۔
اگر اس تحریر سے کسی ایک انسان کے دل میں اپنے وطن کے لیے محبت، اپنے رب کے سامنے جواب دہی اور دوسرے انسان کے حق کا احساس پیدا ہوجائے تو اس تحریر کا مقصد پورا ہوجائے گا۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، عدل، علم، امانت، خوشحالی اور حقیقی آزادی عطا فرمائے، ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے احساس پیدا فرمائے، اور ہمیں اپنے اپنے حصے کا فرض دیانت داری کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
پاکستان کی اصلاح — چند بنیادی سوالات
پاکستان کا مستقبل صرف معیشت، سیاست یا حکومت کی تبدیلی سے وابستہ نہیں۔ پاکستان کا مستقبل عدل و انصاف، قانون کی حکمرانی (Rule of Law)، آئین پاکستان کی پاسداری، انسانی حقوق، بنیادی حقوق، احتساب، دیانت داری، اچھی حکمرانی (Good Governance) اور حقوق العباد سے بھی جڑا ہوا ہے۔
پاکستان میں انصاف، پولیس اصلاحات، عدالتی اصلاحات، سرکاری اداروں کی جواب دہی، کرپشن اور رشوت کا خاتمہ، سفارش کے بجائے میرٹ، شہری آزادی، آزادی اظہار اور قانون کے برابر نفاذ جیسے مسائل پر سنجیدہ قومی گفتگو کی ضرورت ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے بھی عدل کوئی ثانوی معاملہ نہیں۔ قرآن ہمیں لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرنے اور انصاف قائم کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسی لیے قرآن اور عدل، قرآن اور انصاف، اسلامی اصول، اسلامی انصاف (Islamic Justice)، حقوق العباد اور اخلاقی قیادت پاکستان کی اصلاح کے لیے اہم تصورات ہیں۔
ہمیں خلفائے راشدین کی قیادت، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عدل، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی انصاف پسندی اور اسلامی حکمرانی کے ان اصولوں سے بھی سبق لینا چاہیے جن میں حکمران خود کو عوام کا مالک نہیں بلکہ جواب دہ خادم سمجھتا تھا۔
سوالات جو ہر پاکستانی کو خود سے پوچھنے چاہئیں
کیا پاکستان میں قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے؟
جی ہاں۔ قانون کی حکمرانی (Rule of Law) کا بنیادی تصور یہی ہے کہ شہری کی حیثیت، دولت، عہدہ، سیاسی وابستگی یا طاقت قانون کے سامنے اس کے بنیادی حقوق کو ختم نہیں کرتی۔ ایک بہتر پاکستان وہ ہوگا جہاں کمزور شہری بھی اپنے حق کے لیے اسی اعتماد سے عدالت اور ریاستی اداروں سے رجوع کرسکے جس طرح ایک طاقتور شخص کرسکتا ہے۔
حقوق العباد کیا ہیں اور پاکستان کے حالات سے ان کا کیا تعلق ہے؟
حقوق العباد سے مراد انسانوں کے وہ حقوق ہیں جو ایک دوسرے کے ذمہ ہیں۔ کسی کا مال، عزت، جان، آزادی یا جائز حق چھیننا صرف ایک معاشرتی خرابی نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور دینی ذمہ داری کا معاملہ بھی ہے۔ رشوت، دھوکہ، ظلم، ناجائز سفارش، جھوٹا الزام اور کمزور کے حق کو دبانا اسی وسیع مسئلے سے جڑ سکتے ہیں۔
کیا صرف حکمران پاکستان کو بدل سکتے ہیں؟
نہیں۔ قومی اصلاح حکومت سے شروع ہوسکتی ہے لیکن صرف حکومت پر ختم نہیں ہوتی۔ صدر، وزیراعظم، پارلیمنٹ، جج، وکیل، پولیس افسر، سرکاری ملازم، صحافی، استاد، تاجر، والدین اور عام شہری سب اپنے اپنے دائرے میں ذمہ دار ہیں۔
پاکستان میں کرپشن اور رشوت کا خاتمہ کیسے ہوسکتا ہے؟
اس کے لیے قانون کا یکساں نفاذ، شفاف سرکاری نظام، مؤثر احتساب، واضح procedures، digital services، merit، شکایات کے قابل اعتماد نظام اور رشوت لینے اور دینے دونوں کے خلاف مستقل کارروائی ضروری ہے۔ ساتھ ہی معاشرے کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ رشوت کو "کام نکلوانے کا طریقہ" سمجھنا بند کیا جائے۔
پولیس اور شہری کے تعلق میں کیا تبدیلی ضروری ہے؟
پولیس کا بنیادی مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور قانون کا نفاذ ہے۔ ایک بہتر پاکستان میں پولیس اصلاحات (Police Reform)، accountability، professional investigation، شہریوں کے ساتھ احترام اور بروقت قانونی کارروائی کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔
عدلیہ کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟
عدلیہ کا بنیادی مقصد قانون اور حق کے مطابق انصاف فراہم کرنا ہے۔ عدالت کا وقار صرف اس کی عمارت یا عہدوں سے نہیں بلکہ اس اعتماد سے قائم ہوتا ہے جو عام شہری کو یہ یقین دلاتا ہے کہ اس کی آواز سنی جائے گی اور فیصلہ قانون اور شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔
کیا آئین پاکستان شہریوں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے؟
آئین پاکستان ریاستی نظام اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے لیے ایک بنیادی قانونی framework فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے constitutional rights، fundamental rights، rule of law اور constitutional supremacy صرف قانونی اصطلاحات نہیں بلکہ ریاست اور شہری کے تعلق کی بنیاد ہیں۔ ان اصولوں کا عملی نفاذ ہی آئین کی حقیقی روح کو مضبوط کرتا ہے۔
کیا آزادی اظہار اور ذمہ داری ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟
جی ہاں۔ آزادی اظہار ایک اہم شہری حق ہے، لیکن معاشرے میں جھوٹی معلومات، بہتان، تشدد پر اکسانے اور دوسروں کے حقوق پامال کرنے سے متعلق قانونی حدود بھی موجود ہوسکتی ہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ قانون واضح، متناسب، منصفانہ اور سب پر یکساں طور پر نافذ ہو، اور جائز اختلاف کو جرم یا دشمنی میں تبدیل نہ کیا جائے۔
اسلام پاکستان کی اصلاح کے بارے میں ہمیں کیا سکھاتا ہے؟
اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ معاملات، امانت، دیانت، عدل، رحم، ذمہ داری اور حقوق العباد کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن اور سنت میں عدل کو بنیادی اخلاقی قدر کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اگر مسلمان معاشرہ اپنے معاملات میں ان اصولوں کو زندہ کرے تو اس کے اثرات گھر، بازار، عدالت، دفتر، سیاست اور ریاست ہر جگہ ظاہر ہوسکتے ہیں۔
کیا پاکستان دوبارہ ایک بہتر، محفوظ اور خوشحال ملک بن سکتا ہے؟
یقیناً امید باقی ہے۔ بہتر پاکستان (Better Pakistan)، محفوظ پاکستان (Safe Pakistan)، پرامن پاکستان (Peaceful Pakistan) اور خوشحال پاکستان کا خواب اسی وقت حقیقت کے قریب آئے گا جب قومی اصلاح صرف نعروں کے بجائے کردار، قانون، تعلیم، انصاف، دیانت اور اجتماعی ذمہ داری میں تبدیل ہوگی۔
پاکستان کی اصل تبدیلی کہاں سے شروع ہوگی؟
شاید سب سے پہلے ہمارے اپنے گھر سے۔ پھر ہمارے کاروبار، دفتر، school، محلے، مسجد، بازار، پولیس station، عدالت اور ہر اس جگہ سے جہاں ہمارے اختیار میں کوئی چھوٹا یا بڑا فیصلہ ہوتا ہے۔
قومی بیداری (National Awakening) کا آغاز ہمیشہ کسی بڑے عہدے سے نہیں ہوتا۔ کبھی ایک عام انسان کا اپنے رب کے سامنے صحیح فیصلہ بھی معاشرے کی اصلاح کا آغاز بن سکتا ہے۔
آخری سوال
اگر ایک دن پاکستان میں قانون واقعی طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے برابر ہوجائے، رشوت کے بغیر سرکاری کام ہونے لگیں، پولیس شہری کی حفاظت کے لیے قابل اعتماد بن جائے، عدالت میں انصاف دولت اور تعلقات سے آزاد ہوجائے، تعلیم میں کردار اور merit واپس آجائے، صحافت میں ذمہ داری اور سچائی مضبوط ہوجائے، کاروبار میں امانت اور دیانت عام ہوجائے، اور ہر پاکستانی دوسرے انسان کے حق کو اپنا فرض سمجھنے لگے تو کیا پاکستان دنیا کے لیے ایک مثال نہیں بن سکتا؟
یہی وہ خواب ہے جسے زندہ رکھنے کی ضرورت ہے۔
Pakistan Final Call — پاکستان کی آخری پکار دراصل اختتام کی نہیں، اصلاح، توبہ، عدل اور بیداری کی پکار ہے۔
Leave a Comment